محمد بشارت
کوٹرنکہ // حکومت کی جانب سے حال ہی میں مسافر گاڑیوں کے کرایہ میں 18 فیصد اضافے کے اعلان کے باوجود کوٹرنکہ–بدھل اور ملحقہ روٹس پر اس کا کوئی واضح اطلاق دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ الٹا ڈرائیوروں کی جانب سے من مانی کرایہ وصولی کا سلسلہ جاری ہے، جس سے عوام شدید پریشان ہیں۔مقامی افراد کے مطابق کوٹرنکہ اور بدھل کے مختلف روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیاں سرکاری ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کی ریٹ لسٹ نافذ کر رہی ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کرایوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے اور کہیں کہیں دگنا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، جس سے عام آدمی کا سفر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔شہریوں نے بتایا کہ کوٹرنکہ سے بدھل کا فاصلہ تقریباً 20 کلومیٹر ہے، مگر کرایہ 50 روپے لیا جا رہا ہے، جبکہ کوٹرنکہ سے خواص (تقریباً 30 کلومیٹر) کے لیے بھی من مانی رقم وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کھنڈی گلی تک چار کلومیٹر کے سفر کے لیے آٹو میجک، ایکو کار اور دیگر نجی گاڑیاں 20 روپے فی مسافر وصول کر رہی ہیں، جبکہ میٹاڈور اور بسیں بھی یہی کرایہ لے رہی ہیں۔
محمد ایوب ڈھنڈوت کے مطابق پانچ کلومیٹر کے لیے 20 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ فرید بھارتی جمولہ نے بتایا کہ کوٹرنکہ سے جمولہ تک کرایہ 120 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ایان بٹ سموٹ کے مطابق 15 کلومیٹر کے لیے 30 روپے، جبکہ اکرم پسوال نے دراج پہلواڑ کے لیے 10 کلومیٹر پر 30 روپے کرایہ وصول کیے جانے کی شکایت کی۔ اسی طرح لال محمد شاہپور کے مطابق 14 کلومیٹر کے لیے 50 روپے لیے جا رہے ہیں۔مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کرایہ کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے تو ڈرائیور بدتمیزی پر اتر آتے ہیں اور بعض اوقات مسافروں کو گاڑی سے اتارنے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ ڈرائیوروں کا مؤقف ہے کہ گاڑی کی خریداری میں مسافروں کا کوئی حصہ نہیں، اس لیے انہیں پورا کرایہ ادا کرنا ہوگا۔یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آ چکا ہے، جہاں عوام نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر کوٹرنکہ سے دراج، درمن، سموٹ، پھلنی اور ترگائیں روٹس پر چلنے والی گاڑیاں مبینہ طور پر دگنا کرایہ وصول کر رہی ہیں۔علاقہ مکینوں نے ٹرانسپورٹ کمشنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے سرکاری کرایہ نامہ نافذ کیا جائے اور تمام گاڑیوں میں کرایہ کی فہرست آویزاں کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ موٹر وہیکل ڈپارٹمنٹ، اے آر ٹی او اور ٹریفک پولیس کو جوابدہ بنایا جائے تاکہ عوام کو اس لوٹ مار سے نجات مل سکے۔