حسین محتشم +سمت بھارگو
پونچھ/راجوری//خطہ پیر پنجال میں غیر معمولی اور اچانک ہونے والی برفباری نے اہم اور اسٹریٹجک مغل شاہراہ کو مکمل طور پر بند کر دیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئیں اور ہزاروں مسافر شدید سردی اور نامساعد حالات میں مشکلات سے دوچار ہو گئے۔ یہ شاہراہ راجوری اور پونچھ اضلاع کو وادی کشمیر کے ضلع شوپیاں سے جوڑنے والی ایک اہم رابطہ سڑک ہے، جس کی بندش نے خطے میں آمد و رفت کو بری طرح متاثر کر دیا۔ذرائع کے مطابق راجوری اور پونچھ کے بالائی علاقوں میں اچانک اور غیر موسمی برفباری ہوئی، جس کے باعث پیر کی گلی کے مقام پر برف کی بھاری مقدار جمع ہو گئی۔ سڑک پر برف کی موٹی تہہ جمنے سے شاہراہ انتہائی پھسلن کا شکار ہو گئی اور کئی مقامات پر گاڑیوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر رک گئی۔ چونکہ یہ برفباری غیر متوقع تھی، اس لیے بڑی تعداد میں مسافر راستے میں ہی پھنس گئے۔
اطلاعات کے مطابق پھنسنے والی گاڑیوں میں نجی کاریں، مال بردار ٹرک اور مسافر گاڑیاں شامل تھیں، جن میں 250 سے زائد افراد سوار تھے۔ ان میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے، جو کھلے آسمان تلے شدید سردی میں وقت گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ متعدد افراد نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے امداد کے لیے اپیلیں بھی جاری کیں، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انتظامیہ نے فوری حرکت میں آتے ہوئے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور برف ہٹانے والی مشینری کو متحرک کر دیا۔ سب ڈویڑنل مجسٹریٹ سرنکوٹ فاروق خان کے مطابق مسلسل کوششوں کے بعد شاہراہ کو جزوی طور پر صاف کر لیا گیا اور تقریباً 110 گاڑیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مسافروں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم، کئی مقامات پر برف ہٹانے کا کام ابھی بھی جاری ہے اور حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خراب موسمی حالات اور وقفے وقفے سے ہونے والی برفباری کے باعث بحالی کے کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس کے باعث مکمل طور پر ٹریفک بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ادھر انتظامیہ نے عوام کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید برفباری کی صورت میں صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ مغل شاہراہ کی بندش سے نہ صرف روزمرہ کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اہم شاہراہ کی فوری بحالی نہایت ضروری ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے اور معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔