حق و انصاف کی آواز اٹھانے پر قید کیا گیا، سسٹم کی اصلاح تک جدوجہد جاری رہے گی:معراج ملک
اشتیاق ملک
جموں//عام آدمی پارٹی کے لیڈر و رکن اسمبلی ڈوڈہ معراج ملک منگل کی صبح جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک بڑے عوامی قافلے کی صورت میں جموں پہنچے۔کٹھوعہ سے جموں تک کے راستے میں جگہ جگہ عوام کے مختلف طبقات نے ان کا والہانہ استقبال کیا، پھولوں کی مالائیں پہنائیں اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے معراج ملک نے کہا کہ انہیں صرف اس لیے پابند سلاسل کیا گیا کیونکہ وہ غریب عوام کی آواز بلند کر رہے تھے اور حق و انصاف کی بات کر رہے تھے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا”مجھے سچ بولنے کی سزا دی گئی، لیکن میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں،سسٹم کو سدھارنے اور ناانصافی کے خلاف میری جدوجہد آخری دم تک جاری رہے گی‘‘۔سماجی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر مذہب انسانیت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کچھ عناصر اپنے مفادات کے لیے مذہب کی آڑ میں سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے پڑھے لکھے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ سیاست کے میدان میں آئیں تاکہ ملک اور ریاست کی باگ ڈور ایماندار اور تعلیم یافتہ ہاتھوں میں ہو۔معراج ملک نے جموں و کشمیر کی موجودہ انتظامیہ اور عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھاجو حکومت اپنے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی، وہ عام اور غریب عوام کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟ریاست میں بے روزگاری اور مہنگائی آسمان چھو رہی ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان ذہنی پریشانی کا شکار ہیں،موجودہ سسٹم عوام دوست ہونے کے بجائے عوام دشمن بن چکا ہے، جس میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار انتخابی وعدوں کو وفا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ نے انتخابات سے قبل 370 واپس لانے، مفت بجلی دینے و روزگار کی پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن برسر اقتدار آتے ہی ان وعدوں کو بھول گئی ہے۔جموں و کشمیر میں منشیات کی طرف بڑھتا رحجان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک گہری سازش کے تحت یہاں کے نوجوانوں کو اس کا شکار بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل میں ان کی کئی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو منشیات کے کاروبار کے الزام میں بند تھے۔ملک نے کہا کہ دراصل یہ کاروبار پیسے والے لوگ کررہے ہیں جس میں کچھ افسر و امیر لوگ شامل ہیں اور غریب بچوں کو اس میں پھنسایا جارہا ہے۔معراج ملک کے ہمراہ سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ انہیں عوامی سطح پر بڑی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ بے روزگاری،رشوت خوری، بدعنوانی اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور عوام کی عدالت میں اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔