التجا کی قیادت میںپی ڈی پی کا احتجاج،موجودہ حکومت کی تنقید
سرینگر// جموں و کشمیر میںریونیو امتحانات اور سروسزسے اردو زبان کو لازمی شرط سے خارج کرنے کے خلاف التجا مفتی کی قیادت میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کارکنان نے احتجاجی دھرنا دیا اور اردو کو مٹانا نامنظور کے نعرے بلند کیے۔ اس موقع پر پارٹی رہنما نے نیشنل کانفرنس (این سی) کی قیادت والی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو خطے کی شناخت پر حملہ قرار دیا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ عوام نے حکومت کو مینڈیٹ اس لیے نہیں دیا کہ وہ ان کی زبان اور ثقافت کو نقصان پہنچائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تحصیلدار امتحان کے لیے جاری کردہ حالیہ حکم نامے کے تحت اردو کو لازمی اہلیت سے نکالنا دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کی لسانی شناخت کو کمزور کرنا ہے۔انہوں نے کہاآپ ہماری زبان پر حملہ کر رہے ہیں، یہ ہماری شناخت پر حملہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو جموں و کشمیر کی تاریخی اور انتظامی زبان رہی ہے اور اسے نظر انداز کرنا عوامی جذبات کے خلاف ہے۔پی ڈی پی رہنما نے مزید کہا کہ اردو کو سرکاری و انتظامی ڈھانچے سے باہر کرنے کی کوشش دراصل ایک مٹانے کی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔احتجاج کے دوران کارکنان نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ اردو زبان کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ادھر حکومتی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر بحث تیز ہو گئی ہے اور اسے لسانی و ثقافتی تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔