عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل کہا کہ صرف نیشنل کانفرنس جموںوکشمیر کے تشخص کو تحفظ فراہم کرنے کی اہل ہے ۔کھنہ بل، اننت ناگ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے جموں و کشمیر کو دفعہ 370 حاصل ہوئی، اسی دن سے بی جے پی اسے ختم کرنے کے درپے تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم ترقی کریں، خوشحال ہوں اور اتحاد کے ساتھ رہیں۔ اس حقیقت کے باوجود بھی قلم دوات جماعت نے ان کے ساتھ اتحاد کیا اور انہیں یہاں اقتدار میں لا کر اس تاریخی ریاست کو تہس نہس کردیا۔عوام سے اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے دشمن نیشنل کانفرنس کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے بھاری سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے۔
ہمارے مخالفین کو ماہانہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی طرح نیشنل کانفرنس کو کمزور کیا جا سکے اور جموں وکشمیر میں جو کچھ بچا کھچا ہے اْسے سلب کیا جاسکے اور یہاں کے عوام کو مزید کمزور و محتاج بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس واحد جماعت ہے جو جموں و کشمیر کے تشخص کا تحفظ کر سکتی ہے، لیکن اس کے لئے سب سے اہم ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق ہے۔ جب تک ہم متحد رہیں گے، کوئی ہمیں زیر نہیں کر سکتا۔ یہ جماعت ان لوگوں کی نمائندہ ہے جو غریب تھے، جنہوں نے ظلم سہا، جو زمینوں پر کام کرتے تھے مگر انہیں معاوضہ نہیں ملتا تھا۔ ہمیں ان کی قربانیوں کی قدر کرنی ہوگی، آپس میں اتحاد قائم رکھنا ہوگا اور دشمن کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن باہر نہیں بلکہ اندر موجود ہے، جو لوگوں کو گمراہ کرنے اور جھوٹے وعدوں سے لبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدرِ نیشنل کانفنرس نے آنے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے لئے تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابھی سے منظم کام شروع کرنا ہوگا۔ دیانتدار نمائندوں کو آگے لانا ضروری ہے اور اس عمل میں خواتین کی شمولیت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔اس سے قبل معروف سیاست دان، مجاہد آزادی ، دینی شخصیت اور پارٹی کے بزدگ رہنما الحاج پیر عبدالغنی شاہ ویری (سابق وزیر) کو 11ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اْن کے مزار پر فاتحہ خوانی اور گلباری کی گئی۔