محمد تسکین
بانہال //جموں ۔ سرینگر قومی شاہراہ پر اتوار کے روز پیش آئے ایک افسوسناک اور سنسنی خیز واقعے کے بعد لاپتہ ہونے والے نوجوان کی تلاش چوتھے روز بھی جاری رہی اور بدھ کی شام تک ریسکیو ٹیموں کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔لاپتہ ہوئے نوجوان نے اتوار کے روز مبینہ طور پر ڈگڈول کے قریب شرپسند عناصر کے تعاقب اور حملے سے بچنے کے لئے مکرکوٹ کے مقام پر نالہ بشلڑی میں چھلانگ لگا دی تھی اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔
لاپتہ نوجوان کی شناخت 25 سالہ تنویر احمد چوپان ولد عبدالسلام چوپان ساکنہ منڈکھال، پوگل کے طور پر کی گئی اور مقامی لوگوں کے مطابق تنویر احمد چوپان ٹاٹا موبائل گاڑی میں جموں سے ایک دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑوں کے ہمراہ اپنے گھر پوگل کی جانب روانہ تھا کہ ڈگڈول کے مقام پر دو گاڑیوں میں سوار کئی افراد نے اس کا مبینہ طور پر پیچھا کرنا شروع کیا اور صورتحال سے خوفزدہ ہو کر اس نے جان بچانے کی غرض سے نالہ بشلڑی میں چھلانگ لگا دی، جس کے بعد سے اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگوں اور پولیس نے تلاش کا عمل شروع کیا تھا اور بعد میں اسے مزید وسعت دی گئی ہے ۔ پیر کے روز نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم بھی اس آپریشن میں شامل ہو گئی تھی جس کے بعد ریسکیو کارروائیوں میں تیزی آئی۔ریسکیو ٹیمیں بیٹری چشمہ کے مقام دریائے چناب سے مکرکوٹ کے مقام جائے نالہ بشلڑی کے مختلف حصوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم پانی کے تیز بہاؤ، دشوار گزار علاقہ اور دیگر مشکلات کے باعث کارروائیوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔اس واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے جبکہ افرادخانہ شدید کرب میں مبتلا ہیں اور حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ نہ صرف تلاش کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے بلکہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔ لاپتہ نوجوان تنویر احمد چوپان کے والد اور جموں و کشمیر پولیس میں بطور ایس پی او تعینات عبدالسلام چوپان نے واقعے پر اپنے گہرے دکھ ، صدمے اور بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ میرا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے اور اس کے بیٹے کو بلاوجہ مار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مشینری مکمل طور سے ناکام ہے اور شاہراہ پر یہ غنڈے عناصر بے قابو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنویر احمد اپنی تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور محنت مزدوری کرکے اپنا روزگار چلا رہا تھا کہ وہ غنڈوں کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ انہوں نے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی، حتیٰ کہ سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔