اشتیاق ملک
ڈوڈہ //جموں و کشمیر کا ضلع ڈوڈہ ایک بار پھر لرز اٹھا ہے، جہاں گزشتہ چند دنوں سے زلزلوں کے متواتر جھٹکوں نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔منگل کی علی الصبح آنے والے تازہ جھٹکے نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا، جبکہ انتظامیہ سے زلزلہ پروف تعمیراتی پالیسی وضع کرنے کے مطالبات میں شدت آگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح 4بجکر 56منٹ پر زلزلے کا ایک جھٹکا محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹرسکیل پر 2.9ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس زلزلے کا مرکز ضلع ڈوڈہ کا بھدرواہ-بھلیسہ علاقہ تھا۔اگرچہ اس جھٹکے کی شدت کم تھی، لیکن مسلسل آنے والے تھرتھراہٹ نے عوام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔واضح رہے کہ یہ حالیہ دنوں میں آنے والا پہلا جھٹکا نہیں ہے۔ محض دو روز قبل بھی ضلع کے گندوہ بھلیسہ علاقے میں دو شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔پہلا جھٹکا 4.9شدت دوسرا جھٹکا 3.4شدت بتائی جاتی ہے۔ان جھٹکوں سے اگر چہ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا کیا ہے اور نفسیاتی طور پر بھی عوام کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے 2013کی یاد تازہ کر دی ہے، جب اس خطے میں زلزلوں کا ایک طویل اور نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا تھا۔اس وقت سینکڑوں مکانات اور سرکاری عمارات میں دراڑیں پڑ گئی تھیں اور کئی ڈھانچے منہدم ہو گئے تھے۔ماہرین ارضیات کے مطابق یہ پورا خطہ سیسمیک زون (Seismic Zone) کے انتہائی حساس زمرے میں آتا ہے، جہاں زمین کے اندرونی پلیٹوں کی حرکت مسلسل جاری رہتی ہے۔تازہ صورتحال کے پیش نظر مقامی لوگوں نے حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں تعمیراتی ڈھانچے میں فوری تبدیلی لائی جائے اور زلزلہ پروف مکانات کی تعمیر کو لازمی قرار دیا جائے۔سیول سوسائٹی نے آفات سے نمٹنے والے ادارے (SDRF) کو متحرک کرنے اور عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی حکام سے مانگ کی ہے اور ماہرین ارضیات کی ایک خصوصی ٹیم بھیجی جائے جو زمین کی حالیہ بے چینی کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے۔ڈوڈہ ڈیولپمنٹ فرنٹ کے ترجمان و معروف قلمکار اشتیاق احمد دیو نے کہا مسلسل جھٹکوں کا آنا اچھی علامت نہیں ہے۔انہوں نے کہا 2013 میں بھی سیول سوسائٹی و میڈیا برادری نے سرکار سے اس خطہ میں زلزلوں کے پیش نظر ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ خطہ پہلے ہی ہمالیا کے دامن میں واقع ہے اور یہاں کا تعمیری نظام بھی لوگ اپنے ترز پر انجام دیتے ہیں۔ادھرانتظامیہ نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔