عاصف بٹ
کشتواڑ//وقف بورڈ یونٹ کشتواڑ کی ایک اہم پیش رفت میںنے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے قصبہ کے پالیذ علاقہ میں موجودہ قبرستان کے قریب ہی عام قبرستان کیلئے زمین مختص کر دی ہے۔ وقف بورڈ نے یہ فیصلہ مختلف وفود کی جانب سے بارہا پیش کی گئی درخواستوں کے بعد لیا گیا جن میں ضلع کشتواڑ میں تدفین کیلئے جگہ کی قلت کو دور کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ ایگزیکٹو آفیسر وقف بورڈ یونٹ کشتواڑ فردوس احمدنے ان مطالبات پر فوری کارروائی کرتے ہوئےا علیٰ حکام کی مشاورت سے مختصر وقت میں مناسب زمین کی نشاندہی اور حد بندی کو یقینی بنایا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 7کنال وقف اراضی کو فوری طور پر عام قبرستان کیلئے مختص کیا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو بڑی راحت ملے گی۔6اپریل کو ایگزیکٹو آفیسر فردوس احمد بوانی کی قیادت میں ایک وفدنے آستان بالا میں واقع حضرت شاہ فرید الدینؒ کے مزار (زیارت فریدیہ) کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران وفد نے حضرت شاہ فرید الدینؒ سے منسوب مقدس تبرکات کا باقاعدہ طور پر تحویل حاصل کیا۔اس موقع پر فردوس احمد نے کشتواڑ شہر کو چار زونز میں تقسیم کرکے مستقبل میں الگ الگ قبرستان قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ زیر غور ہے اور اس کا مقصد تدفین کیلئے طویل مدتی حل فراہم کرنا ہے۔ فی الحال پالیذ میں مختص کی گئی زمین کو عام قبرستان کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جامع مسجد کشتواڑ کے امام مولانا فاروق حسین کچلو سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جمعہ کے خطبے میں عوام کو اس پیش رفت سے آگاہ کریں۔حکام نے مزید کہا کہ موجودہ قبرستان سے متعلق کوئی بھی فیصلہ علمائے کرام اور معززین سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا اور حتمی تجویز وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی کو منظوری کیلئے پیش کی جائے گی۔ ایگزیکٹو آفیسر فردوس احمد بوانی نے وقف اراضی پر قابض افراد کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ از خود ایسی زمینیں خالی کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اراضی پہلے ہی سرکاری گزٹ میں نوٹیفائی اور جیو ٹیگ کی جا چکی ہے اور عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں غیر قانونی قبضے پر جرمانہ اور نقصان کی وصولی بھی شامل ہوگی۔وہی وقف زمین کو واپس لینے کا عمل وقف بورڈ کی جانب سے چالایاجارہے اور اب تک پچاس کنال سے زائد قابض زمین کو واپس اپنی تحویل میں لیا گیا ہے۔