عاصف بٹ
کشتواڑ // کشتواڑ ضلع کے دروافتادہ علاقہ جات کے تعلیمی اداروں کا حال بےحال ہے اور سرکاری ملازمین پر لاکھوں وکروڑوں روپے تنخواہوں پر صرف کرنے کے باوجود بھی بچوں کی تعلیم صرف کے برابر ہے ۔تعلیمی زون اندروال کا حال برا ہے جہاںسکولوں میں بچے کم جبکہ اساتذہ زیادہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری سکول خانپورہ میں اگرچہ سات بچے درج ہیں لیکن چار ہی سکول میں موجود تھے جنکے لیے دو اساتذہ رکھے گئے ہیں۔یہ سکول سال 2003میں بطور پری پرائمری قائم ہوا تھااور 2008میں اسے پرائمری سکول کا درجہ دیا گیا، اس وقت طلباءکی تعداد میں مسلسل کمی کے باعث سنگین صورتحال سے دوچار ہے جس نے سکول کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔سکول کے قیام کے وقت یہاں اگرچہ تقریباً 30 طلباءزیر تعلیم تھے اور ادارہ ایک امید افزا آغاز کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران طلباءکی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سکول میں کل صرف 7طلباءزیر تعلیم ہیں، جن میں 2پری پرائمری، 3پہلی جماعت اور 2دوسری جماعت کے طلباءشامل ہیں۔ حیران کن طور پر تیسری، چوتھی اور پانچویں جماعت میں ایک بھی طالب علم زیر تعلیم نہیں ہے ۔سکول میں اس وقت 2 اساتذہ تعینات ہیں جبکہ طلباءکی انتہائی کم تعداد کے باعث تدریسی نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔ دو اساتذہ کا صرف چند طلباءکو پڑھانا تعلیمی وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی سوال اٹھا رہا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سکول کو بچانے اور طلباءکی تعداد بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ والدین کا اعتماد بحال کرنے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکام کو سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی بصورت دیگر سکول کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریشلائزیشن پالیسی کے تحت ایک استاد کو اس سکول سے کسی دوسرے ادارے میں ٹرانسفر کیا گیا تھا لیکن کئی ماہ گزرجانے کےبعد بھی انہوںنے سکول جوائن نہیں کیا ۔ اس معاملے کو لیکر جب کشمیر عظمیٰ نے زونل ایجوکیشن افسر اندروال سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو متعدد کوششوں کے بعد بھی ان سے فون پر رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔