بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک اہم قدم کے طور پر جموں و کشمیر کابینہ نے راجباغ۔سنگرمال فلائی اوور کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جسے گرمائی دارالحکومت میں شہری بنیادی ڈھانچے اور ٹریفک منصوبہ بندی پر نئی توجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ 26 مارچ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں کابینہ نے منظور کیا، جس پر تقریباً 144.36کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ یہ فلائی اوور سنگرمال کمپلیکس کو راجباغ پولیس سٹیشن کے علاقے سے جوڑے گا اور موجودہ کانونٹ فٹ برج کے اوپر سے گزرے گا، جو شہر کے بڑے ٹریفک مسائل میں سے ایک ہے۔حکام کے مطابق یہ اقدام وسطی سری نگر کے ان اہم راستوں پر ٹریفک کم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں خاص طور پر دفتری اور سکولی اوقات میں شدید رش دیکھنے کو ملتا ہے۔سرینگر میں ٹریفک کا بحران گزشتہ برسوں میں مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہر سال تقریباً 75 ہزار نئی گاڑیاں سڑکوں پر آ رہی ہیں، جس سے سڑکوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔عام شہریوں کے لئے اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اوسطاً لوگ روزانہ ایک سے دو گھنٹے ٹریفک میں گزارتے ہیں، جو سالانہ 365سے 700گھنٹوں تک بنتے ہیں۔حیدرپورہ کے ایک مسافر نے کہا’’ٹریفک میں وقت ضائع ہونا اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، لیکن کم از کم اب اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نظر آ رہے ہیں‘‘۔محکمہ تعمیرات عامہ کے ایک سینئرافسر نے کہا کہ مسئلہ صرف سڑکوں کی لمبائی بڑھانے کا نہیں بلکہ ان مقامات پر کشادگی پیدا کرنے کا ہے جہاں رکاوٹیں ہیں۔انکاکہناتھا’’سری نگر جیسے گنجان شہری علاقوں میں فلائی اوور اور ایلیویٹڈ کوریڈورز عملی حل بن جاتے ہیں‘‘۔تاجر برادری نے کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے معاشی سرگرمیوں کے لئےمثبت قدم قرار دیا ہے۔
تاریخ
راجباغ۔سنگرمال فلائی اوور منصوبہ، جسے پہلی بار 2011میں اس وقت کی عمر عبداللہ حکومت کے دور میں منظوری دی گئی تھی، اب 16سال کے بعد دوبارہ بنانے کو منظوری دی گئی ہے۔اس کا تصور پہلی بار 2011میں نیشنل کانفرنس کی زیرقیادت حکومت کے تحت کیا گیا تھا۔ بعض گروہوں کی جانب سے قانونی ذرائع سے اس کو روکنے کی کوششوں کے باوجود، عدالت نے ان کی درخواست کو خارج کر دیا اور 50,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا، یہ مشاہدہ کرتے ہوئے کہ اس چیلنج میں عوامی مقصد کا فقدان تھا۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ پی ڈی پی بی جے پی اتحاد کے دوران اس منصوبے کی رفتار کو تبدیل کر دیا گیا تھا، جب مجوزہ فلائی اوور کو فٹ برج میں تبدیل کیا گیا ۔ اس کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر)غالباً پہلے ہی بنائی گئی تھی۔ مجوزہ فلائی اوور کانونٹ سکول راجباغ سے سنگرمال کمپلیکس ٹرانسپورٹ یارڈ تک بنانے کا منصوبہ تھا۔ ابتدائی مرحلے میں پریزنٹیشن کانونٹ سکول کے قریب پل کی تعمیر کا آغاز بھی کیا گیا اور اس کے ستون بھی کھڑے کیے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق تقریبا ً120میٹر طویل اس پل کو تین ستونوں پر مشتمل بنایا جانا تھا، جو پولو ویو روڈ کو جہلم کے پار راجباغ سے جوڑتا ہے۔ تاہم 2014کے سیلاب کے بعد منصوبہ تنازعات کا شکار ہو گیا جب محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے پل کی اونچائی پر اعتراض اٹھایا اور نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں سطح بڑھانے کی شرط کے ساتھ این او سی تو جاری کیا گیا، لیکن منصوبے کی نوعیت تبدیل کر دی گئی۔پی ڈی پی،بی جے پی مخلوط حکومت کے دوران اس مجوزہ فلائی اوور کو مکمل ہونے سے قبل ہی فٹ برج میں تبدیل کر دیا گیا، جس پر تقریبا ً12کروڑ روپے لاگت آئی۔ اس تبدیلی نے نہ صرف تنازع کو جنم دیا بلکہ اصل منصوبے کے مقصد، یعنی ٹریفک دبائو کم کرنے، کو بھی متاثر کیا۔پی ڈی پی سرکار پر الزمات بھی عائد کئے گئے کہ انہوں نے خزانہ عامراہ کو نقصانات پہنچانے کے ساتھ ساتھ عوامی مفادات کو بھی ٹھیس پہنچائی۔ انجینئرنگ ماہرین کے مطابق اس وقت سفارش کی گئی تھی کہ پل کو اپنی اصل شکل میں گاڑیوں کیلئے قابل استعمال رکھا جائے اور اس کی سوفٹ لیول 1589میٹر رکھی جائے، تاہم ان تجاویز کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیااور نامعلوم وجوہات کی بناء پر گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بنانے والے اس پل کی بنیادیں گاڑیوں کیلئے بنانے کے بعد اس کو فُٹ برج میں تبدیل کیاگیا۔ موجودہ مجوزہ فلائی اوور کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ماضی کے ادھورے منصوبے کو ایک نئے اور وسیع تر انفراسٹرکچر منصوبے کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
منصوبے کا خیر مقدم
کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کے صدر محمد یاسین خان نے کہا کہ یہ منصوبہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔انہوں نے کہا’’یہ ایک اہم اور خوش آئند فیصلہ ہے۔ ٹریفک جام نے برسوں سے کاروبار کو متاثر کیا ہے،گاہک بھیڑ والے بازاروں سے گریز کرتے ہیں، سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ بہتر آمدورفت سے سپلائی چین مؤثر ہوگی، گاہکوں کی آمد بڑھے گی اور کاروبار بغیر غیر ضروری تاخیر کے چل سکے گا۔یاسین خان نے کہا کہ راجباغ۔سنگرمال کے مقام پر ٹریفک مسئلے کی نشاندہی طویل عرصے سے کی جا رہی تھی اور حکومت کا اس پر عمل کرنا حوصلہ افزا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کانونٹ کراسنگ کو ابتدا میں گاڑیوں کے لئے پل کے طور پر منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن بعد میں اسے صرف فٹ برج تک محدود کر دیا گیا، جس سے رابطے میں خلاء پیدا ہوا۔انہوںنے مزید کہا’’یہ فلائی اوور اس خلا کو پُر کر سکتا ہے اور دیرینہ مسئلے کا حل فراہم کر سکتا ہے‘‘۔انہوں نے زور دیا کہ اسے ایک واحد منصوبہ نہ سمجھا جائے بلکہ ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ تصور کیا جائے۔ اگر اسی طرح کے اقدامات دیگر مصروف مقامات پر کیے جائیں تو سری نگر بتدریج اپنے ٹریفک مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔شہری منصوبہ سازوں کا ماننا ہے کہ اس فلائی اوور کی منظوری فعال حکمرانی اور منظم شہری منصوبہ بندی کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔منصوبے کو کابینہ کی منظوری کے بعد اب اگلے مراحل،تفصیلی منصوبہ بندی، ٹینڈرنگ اور عمل درآمد،کی طرف لے جایا جائے گا۔عوام میں اس اعلان سے محتاط امید پیدا ہوئی ہے، جبکہ سیاسی سطح پر بھی اس پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے اسے ضروری اور عملی قدم قرار دیا ہے۔حکومتی رہنماؤں کے مطابق یہ منصوبہ ایک دیرینہ شہری مسئلے کے حل کے لیے ناگزیر اقدام ہے اور برسوں کی غفلت کے باعث پیدا ہونے والی ٹریفک صورتحال کو بہتر بنانے کی سمت میں اہم پیش رفت ہے۔
الطاف بخاری کی حکومتی فیصلے کی سراہنا
کہا محبوبہ مفتی نے اس منصوبے کو نقصان پہنچایا تھا

عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کابینہ کی جانب سے راجباغ فلائی اوور کی تعمیر کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا ہے کہ کس طرح سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے دورِ اقتدار میں اس منصوبے کو نقصان پہنچایا تھا۔ ان کے مطابق محبوبہ مفتی نے ماہرین کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے ’’نادر شاہی رویے‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو نقصان پہنچایا۔بخاری نے کہا، ’’حکومت کی جانب سے راجباغ۔سنگرمال فلائی اوور کی منظوری دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ انتہائی ضروری تھا اور طویل عرصے سے زیر التوا تھا۔ جب اس فلائی اوور کی تعمیر مکمل ہوگی، تو اس کی بدولت یقیناً اس علاقے میں ٹریفک دباو کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں اس اہم منصوبے کو کس طرح نقصان پہنچایا گیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے دورِ حکومت میں اپنے روایتی نادر شاہی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کی نوعیت ہی تبدیل کر دی تھی۔
ماہرین کے مشوروں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے منصوبے میں تبدیلی کی اور موٹر گاڑیوں کےلئے بنائے جانے والے اس پل کو محض ایک فٹ برج میں تبدیل کردیا گیا۔ حالانکہ اس پل کو ٹریفک کی نقل و حرکت کےلئے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اسی ضرورت کے لحاظ سے اس کی بنیاد رکھی گئی تھی‘‘۔اپنی پارٹی سربراہ نے مزید کہا’’افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے دور حکومت میں محبوبہ مفتی کا یہ واحد فیصلہ نہیں تھا، جس کی وجہ سے سرینگر کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ضمن میں ایک اور مثال بٹہ مالو بس سٹینڈ کو پارم پورہ منتقل کرنے کا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ نہایت غیر دانشمندانہ اور نقصان دہ ثابت ہوا۔ بٹہ مالو، جو کبھی سرینگر ایک متحرک معاشی مرکز تھا، بری طرح متاثر ہوا۔ بس سٹینڈ منتقل کئے جانے کی وجہ سے یہاں کے ہزاروں تاجر، ٹرانسپورٹر اور مقامی باشندے شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح سرینگر کے مضافاتی علاقوں اتھواجن اور پانتھہ چوک میں پتھر نکالنے (اسٹون مائننگ) پر پابندی نے سینکڑوں محنت کش خاندانوں کو ان کی روزی روٹی سے محروم کر دیا۔ اس فیصلے نے بھی آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے مصیبت اور معاشی تنگی پیدا کر دی‘‘۔الطاف بخاری نے مزید کہا ’’یہ صرف چند مثالیں ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ محبوبہ مفتی کے دورِ حکومت میں عوامی مفاد کو نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’میں آج بغیر کسی لاگ لپٹی کے محبوبہ جی سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے دورِ اقتدار میں سرینگر کو جو نقصان پہنچا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اُس وقت آپ کی جماعت کے کچھ غیر منتخب نمائندوں نے بھی آپ کو مزید اُکسایا اور آپ میں پہلے سے ہی شہر مخالف جذبات کو ابھارا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذاتی طور آپ نے بھی سرینگر اور یہاں کے لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ اب میری بات یاد رکھیں: سرینگر کے لوگ نہ تو آپ کی طرف سے پہنچائے گئے نقصان کو بھولیں گے اور نہ ہی وہ آپ کو کبھی معاف کریں گے۔ تاریخ بالآخر اس نقصان کے نتائج کا فیصلہ کرے گی جو آپ نے پہنچایا ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے کے آخر میں کہا، ’’ بہرحال، میں ایک بار پھر موجودہ حکومت کی جانب سے راجباغ–سنگرمل فلائی اوور کی منظوری دینے کے فیصلے کو سراہتا ہوں۔ مجھے اُمید ہے کہ اس منصوبے پر مزید کسی تاخیر کے بغیر کام شروع ہوگا تاکہ لوگوں کو اس علاقے اور ملحقہ علاقہ جات میں شدید ٹریفک دباو سے راحت مل سکے۔‘‘