۔ 7گاڑیوں کو شدید نقصان،بچائو کارروائی مکمل
غلام نبی رینہ
کنگن// جمعہ کو زوجیلا پاس پر زیرو پوائنٹ کے آگے’ دیال سلائیڈ‘ کے قریب دوپہر کوبرفانی تودہ گرنے سے4مسافر گاڑیاں برف کے نیچے دب جانے سے مرنے والوں کی تعداد 7تک پہنچ گئی ہے۔اس المناک حادثے میں جمعہ کو 5افراد کی ہلاکت ہوئی تھی اور 7کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔ مہلوکین میں ماں بیٹا بھی شامل تھے۔ سنیچر کی صبح 65 برس کا زخمی باکر علی ولد محسن علی ساکن نیلہ گراٹھ سونمرگ کرگل ہسپتال میں صبح چار بجے دم توڑ بیٹھا۔ جبکہ اس حادثے میں ایک لاپتہ شخص کی لاش سنیچر کی صبح ساڑھے آٹھ بجے کنی پتھر کے مقام پر برآمد کی گئی ۔
جس کی شناخت علی اکبر ولد حاجی نثار کے بطور ہوئی۔ اس طرح زوجیلا حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ۔پولیس نے کہا کہ بچائو آپریشن مکمل کیا گیا ہے اور حادثے میں کل 7افراد کی ہلاکت اور 5زخمی ہوئے۔ اسکے علاوہ 7گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔جمعہ کوہلاک ہونے والوں میں شہر بانو زوجہ سجاد حسین اور اسکا کم عمر بیٹا اسد اللہ ساکن یولجوک،محمد علی ولد محمد موسیٰ ساکن سانکو،طیبہ بانو زوجہ الطاف حسین ساکن سانگراہ، اورمحمد یوسف ولد غلام علی ساکن ٹنگول شامل ہیں۔5زخمیوں میںادیبہ بانو دختر غلام قادر اور اسکی بہن فریدہ بانو ساکن لیہہ، دانش مجید ولد عبدالمجید ساکن پٹن،ساجدہ بانو ولد محمد محسن ساکن شمبھوہ،اور حکیمہ خاتون دختر محمد حسن ساکن شمبھوہ شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ کم از کم تین سے چار گاڑیاں برفانی تودے کی زد میں آ گئیں اور راستے میں بھاری برف جمع ہونے کی وجہ سے مسافر پھنسے رہے۔یہ واقعہ زوجیلا محور پر جاری خطرات کو ظاہر کرتا ہے، جو کشمیر کو لداخ سے جوڑنے والا ایک اہم پہاڑی درہ ہے، جہاں موسم سرما کے آخر اور موسم بہار کے شروع میں برفانی تودے گرنا عام ہیں۔حکام نے بتایا کہ برفانی تودہ گرنے کے فورا ًبعد بچائوٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، اور برف ہٹانے اور پھنسی گاڑیوں تک پہنچنے کے لیے آپریشن شروع کیا ۔ برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے سڑک کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے ۔زوجیلا پاس، اونچائی پر واقع ہے، اکثر برفانی تودے گرنے اور موسم کی اچانک تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتا ہے، جس سے ٹریفک اور ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے لیے چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔ادھرضلع انتظامیہ گاندربل نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ضلع میں ممکنہ برفانی تودے کے خطرے کے بارے میں ایک ایڈوائزری وارننگ جاری کی ہے۔پیش گوئی کے مطابق، درمیانی درجے کے برفانی تودے کا خطرہ 2,400 میٹر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، جس سے حکام نے زیادہ احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ خطرناک علاقوں سے گریز کریں جن میں اونچی رسائی، برف سے ڈھکی ڈھلوان اور پہاڑی علاقے شامل ہیں، جب تک کہ مزید جائزہ نہ لیا جائے۔ رہائشیوں، سیاحوں اور خانہ بدوش برادریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے واقعات کو روکنے کے لیے سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔