زاہد بشیر
گول//گول میں گزشتہ روز اس وقت صفِ ماتم چھا گئی جب عید کے موقعہ پر رشتہ داروں کے ہاں گئے ایک ایکو گاڑی کو بدھن کے علاقے میں حادثہ کا شکار ہوا ابتداء میں دو افراد موقعہ پر ہی لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ6کو شدید حالت میں ایس ڈی ایچ مہور منتقل کیا گیا تھا جہا ں ایک کی موت واقعہ ہوئی اور دیرگئے رات کو مزید دو نواجوانوں کی موت جموں میڈیکل کالج میں واقع ہوئی ۔اس طرح سے اس حادثہ میں تمام5افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ تین زخمی ہوئے ۔ گول کے مہا کنڈ علاقے میں جہاں دو سگے بہن بھائی اس حادثہ میں لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ ایک ان کا نزدیکی رشتہ دار بھی تھا جبکہ گول کے ہی داچھن علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی بھی اس حادثہ میں لقمہ اجل بن گئی ۔ مہا کنڈ میں پانچ بجے دو بہن بھائی شیرازراہی دختر محمد شفیع عمر18سال جبکہ عمر گل ولد محمد شفیع عمر21سال اور رفاقت حسین ولد محمد رفیع عمر15سال کی آخری رسومات ادا کی گئی جہاں پر بھاری تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اسی طرح سے گول کے ہی داچھن علاقے سے تعلق رکھنے والی شازیہ کونثر دختر لیاقت علی عمر18سال کی آخری رسومات آج رات 9:30بجے ادا کی جائے گی ۔یہ پانچوں مہلوک آپس میں کافی نزدیکی رشتہ دار تھے۔ وہیں اسی گاڑی میں سوار حق نواز ولد محمد شفیع ساکنہ بدھن عمر22سال کی آخری رسومات بدھن علاقے میں ہی ادا کی گئی ۔ یاد رہے اس سڑک حادثہ میں حق نواز ، شازیہ راہی اور لیاقت حسین کو ابتداء میں ہی لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ عمر گل کو اس ایکو کا ڈرائیور بھی تھا اور شازیہ کونثر کو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جموں میڈیکل کالج میں دم توڑ گئے ۔ جبکہ ا س سڑک حادثہ میں دیگر زخمی جو اس وقت جموں میڈیکل کالج میں زیر علاقے ہیں ۔ علاقہ گول آج سوگوار رہا تمام سیاسی و سماجی تنظیموں نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے سابق سرپنچ گول پرتمولہ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ شیراز اور عمر گل جو میرے شاگرد تھے اور یہ تمام آپس میں نزدیکی رشتہ دار تھے اور یہ عید کے موقعہ پر مہور گئے تھے ۔ انہوں نے اس حادثہ میں تمام ملہوکین کے ورثاء کے ساتھ ہمدرد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حق میں سرکار سے ایکسگریشیا ریلیف دینے کا پُر زور مطالبہ کیا ۔اس سڑک حادثہ پر مقامی سیاسی و سماجی لوگوں نے اس بات پر بھی نہایت ہی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر اس حادثہ کے فوراً بعد ہیلی کاپٹر کاپٹر کا کوئی انتظام ہوتا تو شدید زخمیوں کو جلد اور فوری علاج ہوتا اور مزید جانیں نہیں جاتیں ۔ انہوں نے کہا کہ بدھن سے مہور کچے روڈ پر لوکل گاڑی میں کافی وقت لگا اور اس کے بعد وہاں سے ریاسی اور پھر ریاسی سے جموں اس طرح سے دس گھنٹے بعد یہ جموں میڈیکل کالج پہنچے اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ سرکار کو لوگوں کی جانوں کا کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیاکہ اس طرح سے حادثوں کے لئے فوری طور پر ایمر جنسی سروس کی بحالی بناء کسی تاخیر و لیت و لعل ہونی چاہئے تا کہ لوگوں کی جانیں بچ سکیں ۔