عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کو “تشویشناک” قرار دیا اور کہاکہ اس کا عالمی معیشت اور لوگوں کے ذریعہ معاش پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے مودی نے یہ بھی کہا کہ تنازعات کے وقت ہندوستانیوں کی حفاظت حکومت کی سب سے بڑی ترجیح رہی ہے، اور مرکز حساس، چوکس اور ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔مودی نے کہا”مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے۔ یہ بحران تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، جس کا عالمی معیشت اور لوگوں کی زندگیوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ پوری دنیا تمام فریقوں سے اس بحران کو جلد از جلد حل کرنے کی اپیل کر رہی ہے،” ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے کارگو کی آمدورفت جنگ کے آغاز سے ہی ایک چیلنج رہی ہے، اس کے باوجود حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ گیس اور ایندھن کی سپلائی سب سے کم متاثر ہو۔
انہوں نے کہا”ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔ غیر یقینی سپلائی کی وجہ سے، حکومت گھریلو سپلائی کو ترجیح دے رہی ہے۔ ملک میں ایل پی جی کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے،” ۔وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ تنازعہ نے غیر متوقع چیلنجز پیدا کیے ہیں، جن میں اقتصادی، انسانی اور قومی سلامتی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تنازعات سے متاثرہ ممالک بھارت کے ساتھ وسیع تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ یہ خطہ ہماری خام تیل اور گیس کی ضروریات کا ایک اہم حصہ پورا کرتا ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہاں تقریباً 1 کروڑ ہندوستانی رہتے اور کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا”میں نے مغربی ایشیا کے بیشتر سربراہان مملکت سے دو دوروں میں فون پر بات کی ہے۔ اور ان سب نے ہندوستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے،” ۔