پرویز احمد
سرینگر //وادی میں 30سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں سے 23فیصد کوپٹھوں میں درد (Sarcopenia)کی شکایات پائی جاتی ہیں۔سرکوپینیا عمر سے متعلق بیماری ہے جو عام طور پر 30 سال کی عمر کے قریب شروع ہوتی ہے اور 60 سال کے بعد تیز ہوجاتی ہے۔ سارکوپینیایعنی پٹھوں کا درد ایک ایسی بیماری سے جس میں پٹھوں کی ماس پشیاں کمزور ہونے کی وجہ سے درد پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے پورا جسم کمزور ہوجاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر عمر بڑھنے، جسمانی غیرفعالیت، اور ناقص غذائیت کی وجہ سے ہوتا ہے، اور اس کا علاج مزاحمتی تربیت اور پروٹین کی مقدار میں اضافہ سے کیا جاتا ہے۔ 30 سال کی عمر کے بعد ہر دہائی میں 3-5% پٹھوں میں قدرتی کمی ہوجاتی ہے۔جسمانی غیرفعالیت یا طویل بستر پر آرام کرنا نقصان کو نمایاں طور پر تیز کرتا ہے۔
اس کی وجہ سے پٹھوں کے خدوخال میں کمی ہوتی ہے۔ یہ خاص طور پر جنسی ہارمون(Testorone) اور گروتھ ہارمون جو پٹھوں کی نشونما اورمرمت کیلئے اہم ہے، سے ہوتی ہے۔پٹھوں کی طاقت اور بڑے پیمانے پر کمزوری سے چلنے کی رفتار اور صلاحیت میں کمی،روزمرہ کے کاموں میں دشواری(کرسی سے اٹھنا، اٹھانا، سیڑھیاں چڑھنا)،توازن کے مسائل اور گرنے اور فریکچر کا بڑھتا ہوا خطرہ ہوتا ہے۔ پٹھوں کا نقصان 30 سال کی عمر کے آس پاس شروع ہوتا ہے اور 60 سال کی عمر کے آس پاس تیزی سے بڑھ جاتا ہے، جو اکثر بعد کی زندگی میں پٹھوں کے بڑے پیمانے پر 40 فیصدنقصان کا باعث بنتا ہے۔جسمانی وزن کی مشقیںسب سے مثبت علاج ہیں۔مناسب پروٹین کی مقدار اور ممکنہ طور پر وٹامن ڈی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق شوگر مریضوں میں 70فیصد اور گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد میں سے 30فیصد پٹھوں کے درد اور وزن میںکمی آنے کی بیماری سے جوج رہے ہیں۔ ماہر فذیشین ڈاکٹر مبشر کہتے ہیں کہ یہ بیماری اصل میں نشوونما کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مبشر نے بتایا ’’ پروٹین اوردیگر غذائیت کی ناکافی مقدار پٹھوں کے صحت کو متاثر کرتی ہے اور بالغوں اور عمر رسیدہ افراد میں بھوک کی کمی اور ذائقہ میں کمی اس کی بڑی علامتوں میں سے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمیاں پٹھوں کی مزاحمت اور طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک سرگرم نہ رہنے سے نہ صرف پٹھے کمزور ہوتے ہیں بلکہ اعصابی قوت میں بھی کمزوری آتی ہے۔