درگاہ حضرتبل میں سب سے بڑا اجتماع ،لاکھوں فرزندان توحید بارگاہ ایذدی میں سربسجود
عاقب سلام
سرینگر//کشمیر بھر میں شبِ قدر نہایت مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی، جہاں ہزاروں عقیدت مندوں نے مساجد اور درگاہوں کا رخ کیا اور رات بھر نماز، تلاوتِ قرآن اور دعاؤں میں مشغول رہے۔ڈل جھیل کے کنارے واقع تاریخی حضرت بل درگاہ میں سب سے بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا، جہاں عقیدت مند پوری رات خصوصی عبادات، قرآن پاک کی تلاوت، درود و اذکار اور نعت خوانی میں مصروف رہے۔وادی میں کئی دنوں کی مسلسل بارش کے بعد پیر کے روز موسم میں کچھ بہتری آئی اور دن کے وقت دھوپ کے مختصر وقفے دیکھنے کو ملے، جس سے کشمیر کے مختلف علاقوں سے عقیدت مند بڑی درگاہوں تک پہنچ سکے۔ اگرچہ شام کے وقت دوبارہ بادل چھائے رہے، تاہم ہزاروں افراد اس مقدس رات کی عبادت کے لیے جمع ہوئے۔
شبِ قدر، جو رمضان المبارک کی 27ویں شب کو منائی جاتی ہے، مسلمانوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی رات قرآنِ پاک کی پہلی آیات حضرت محمدؐ پر نازل ہوئیں۔ عقیدت مندوں کا یقین ہے کہ اس رات کی عبادت بے پناہ روحانی اجر و ثواب کا باعث بنتی ہے۔بڈگام سے اپنے خاندان کے ساتھ آنے والے ایک عقیدت مند محمد ابرار نے کہا’’گزشتہ چند دنوں سے موسم خراب تھا، مگر ہم ہر سال یہاں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت بل میں اس رات عبادت کرنا بے حد روحانی سکون دیتا ہے‘‘۔سرینگر اور دیگر اضلاع کی مساجد اور درگاہوں میں تراویح کی نمازیں، قرآن پاک کی تلاوت اور دعاؤں کی صدائیں گونجتی رہیں، جبکہ عقیدت مند منگل کی صبح تک عبادت میں مصروف رہے۔ مذہبی علما نے خصوصی خطابات میں اس رات کی روحانی اہمیت بیان کی اور لوگوں کو خیرات اور نیکی کے کاموں کی تلقین کی۔ علما نے رمضان المبارک میں زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔اجتماعات کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے انتظامیہ نے مختلف محکموں کے ساتھ مل کر وسیع انتظامات کیے تھے۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے اس موقع کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔حکام کے مطابق سرینگر میونسپل کارپوریشن ،پولیس، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور ٹرانسپورٹ اداروں سمیت مختلف محکموں نے زائرین کے لیے ضروری سہولیات فراہم کیں۔ٹریفک پولیس حکام نے بتایا کہ خصوصی روٹ پلان اور پارکنگ کے انتظامات کیے گئے تھے، خاص طور پر حضرت بل کے علاقے میں جہاں عید کی خریداری کے باعث گاڑیوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔ایک ٹریفک افسر نے کہا’’ہمارا عملہ پوری رات تعینات رہا تاکہ ٹریفک کو منظم رکھا جا سکے اور زائرین کو درگاہ تک پہنچنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو‘‘۔دوسری جانب بڑی مساجد اور درگاہوں کے اطراف بازاروں میں بھی خاصی چہل پہل دیکھنے کو ملی۔ دکانداروں اور خوانچہ نے عارضی سٹال لگائے جہاں سنیکس، بیکری آئٹمز، کپڑے، ٹوپیاں اور دیگر ضروری اشیا فروخت کی گئیں۔حضرت بل کے قریب ایک خوانچہ فروش بشیر احمد نے کہا’’یہ راتیں ہمیشہ اچھی کاروباری سرگرمی لاتی ہیں۔ لوگ عبادت کے لیے آتے ہیں اور عید سے پہلے خریداری بھی کرتے ہیں‘‘۔حکام کے مطابق مختلف محکموں کی مشترکہ کوششوں کی بدولت وادی بھر میں بڑے اجتماعات پُرامن طور پر منعقد ہوئے۔سرینگر کی کئی مساجد اور درگاہوں میں بھی رات بھر اجتماعی عبادات کا اہتمام کیا گیا، جن میں مسجد جمعیت اہل حدیث گاؤکدل، آثار شریف جناب صاحب صورہ، آثارِ شریف شہری کلاشپورہ، زیارتِ مخدوم صاحبؒ، زیارت پیر دستگیر صاحب ؒخانیار،خانقاہِ معلیٰ اور دیگر مساجد و درگاہیں شامل ہیں۔جنوبی کشمیر میں بھی بڑے اجتماعات دیکھنے کو ملے۔ اننت اگ میںجامع مسجد حنفیہ، جامع مسجد اہل حدیث، بیت المقدس اور راحت دید مسجد میں رات بھر اجتماعی عبادات ہوئیں۔ اسی طرح ضلع کے زیارت شریف کھرم، کنڈ، عیش مقام اور بجبہاڑہ علاقوں میں بھی عبادت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔کولگام میں سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد میں دیکھا گیا، جبکہ خانقاہ ترال، جامع مسجد شوپیاں اور جامع مسجد پلوامہ میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے شب بھر عبادات کیں۔