ظہر النساء
سرینگر //ایران کے شہرقم میں منتقل کئے گئے تقریباً 600کشمیری طلبہ اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ انہیں اپنے وطن واپسی کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں مل رہی۔ طلبہ کو پہلے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دارالحکومت تہران سے قم منتقل کیا گیا تھا، تاہم اب وہاں سے انخلا کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا۔طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں آرمینیاکے راستے نکالنے کے بارے میں بھی کوئی حتمی اطلاع نہیں دی گئی ہے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں۔طلبہ کے مطابق اگرچہ تہران میں موجود بھارتی سفارتخانہ نے قم میں ان کے قیام اور کھانے پینے کا انتظام کیا ہے، مگر انخلا کے بارے میں واضح ہدایات نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اور ان کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔قم کے مختلف ہوٹلوں میں مقیم طلبہ نے بتایا کہ ان کے قریبی علاقوں میں کم از کم چار فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا گیا کہ حملے ان کی رہائش گاہ سے صرف تقریباً 300میٹر کے فاصلے پر ہوئے۔ایک طالب علم نے بتایا’’ہم صبح چار بجے زوردار دھماکوں سے بیدار ہوئے۔
قریبی علاقوں سے دھواں اٹھتا نظر آ رہا تھا‘‘۔طلبہ کے مطابق جس ہوٹل میں وہ رہ رہے ہیں اس کی عمارت بھی دھماکوں کی شدت سے ہل گئی۔ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد کے باعث وہاں موجود کشمیری طلبہ اور دیگر بھارتی شہریوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے، جس کے باعث فوری انخلا ناگزیر ہو گیا ہے۔طلبہ نے بتایا کہ انہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ انہیں کب اور کس طرح نکالا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ مقامی حکام نے انہیں بتایا ہے کہ وہ وزارت خارجہ کی ہدایات کے منتظر ہیں۔ایک طالب علم نے بتایا’’ہمیں ہر روز یہی کہا جاتا ہے کہ ابھی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی نئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں‘‘۔طلبہ کو جاری تنازع کے دوران سب سے زیادہ متاثرہ شہر تہران سے نکال کر نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شہر قم منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم اب تشدد قم اور دیگر شہروں تک بھی پھیل رہا ہے، جس سے ایران میں قیام غیر ملکی طلبہ کے لیے مزید خطرناک ہو گیا ہے۔طلبہ کے مطابق ایران اور آرمینیا کی سرحد تک بس کے ذریعے سفر تقریباً 20 گھنٹے کا ہے، جو موجودہ حالات میں محفوظ نہیں سمجھا جا رہا۔طلبہ نے یہ بھی بتایا کہ آرمینیا سے نئی دہلی تک ہوائی ٹکٹ اس وقت بہت مہنگے ہیں، جس کی وجہ سے وہ خود سے سفر کا انتظام نہیں کر سکتے۔انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا’’ہم خود سے بکنگ یا اتنا طویل سفر کیسے کر سکتے ہیں؟ ہمیں اپنی ایمبیسی کی مدد کی ضرورت ہے‘‘۔طلبہ نے بتایا کہ ملک میں انٹرنیٹ بندش کے باعث وہ تقریباً ایک ہفتے بعد اپنے اہل خانہ سے رابطہ کر سکے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میںآپریشن سندھوکے تحت وزارت خارجہ نے ایران میں پھنسے طلبہ اور دیگر شہریوں کو واپس لانے کے لیے انخلا کا عمل شروع کیا تھا۔