عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پیر کو دہلی میں ایرانی ثقافتی مرکز اور ایران کے سفارت خانے کے دورے کے دوران ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کا مسئلہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران انہوں نے اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کے ساتھ تعزیت پیش کی اور ایرن کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بڈگام کے رکن اسمبلی آغا سید منتظر مہدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔محبوبہ مفتی نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘ دلی میں ایرانی ثقافتی مرکز اور سفارت خانے کا دورہ کیا اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا’۔انہوں نے پوسٹ میں مزید کہا: ‘ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کا مسئلہ بھی معزز سفیر کے ساتھ اٹھایا’۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے اس سے قبل بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت امور خارجہ سے ایران میں پھنسے جموں وکشمیر کے طلبا کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لئے مداخلت کرنے کی اپیل کی تھی۔رپورٹس کے مطابق ایران میں 11 سو سے 15 سو طلباء جن میں اکثریت کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبا کی ہے، اس وقت موجود ہیں جن کی حفاظت پر تشویش پائی جا رہی ہے۔مختلف ایرانی جامعات میں زیر تعلیم طلبہ نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ انہیں پڑوسی ممالک آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے محفوظ طریقے سے ہندستان واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ادھرنیشنل کانفرنس کے ارکانِ پارلیمان چودھری محمد رمضان، سجاد احمد کچلو اور شمی اوبرائے نے کل نئی دہلی میںایران کے سفارت خانے کا دورہ کیا اوراسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتحعلی سے ملاقات کی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے المناک قتل پر گہرے رنج و غم اور شدید دکھ کا اظہار کیا۔ ارکانِ پارلیمان نے ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یہ پیغام بھی پہنچایا کہ جموں و کشمیر کے عوام، نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اس غم کی گھڑی میں ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس موقع پر ارکانِ پارلیمان نے ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کے مسئلے کو بھی سفیر کے سامنے اٹھایا اور ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی جلد اور محفوظ واپسی کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔