عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں پیر کے روز شدید گراوٹ دیکھنے کو ملی، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ مارکیٹ کے اہم اشاریے بی ایس سی سنسیکس اور نفٹی تقریباً تین فیصد تک گر گئے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی۔بازار میں یہ تیزی سے ہونے والی فروخت دراصل گزشتہ ہفتے کی گراوٹ کا تسلسل ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں ہفتہ وار تعطیلات کے دوران مزید اضافہ ہوا، جس کے اثرات پیر کے روز ایشیائی مالیاتی منڈیوں پر واضح طور پر دیکھنے کو ملے۔مارکیٹ میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی بتایا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب عالمی سطح پر تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔ چونکہ بھارت اپنی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت کیلئے تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں بھارتی کرنسی روپیہ پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جس سے مجموعی معاشی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔پیر کے روز مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور ابتدائی گھنٹوں میں ہی سینسیکس میں ہزاروں پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی، جبکہ نفٹی بھی اہم سطحوں سے نیچے آ گیا۔ بینکنگ، آئی ٹی، دھاتوں اور توانائی کے شعبوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا رجحان بھی اس گراوٹ کی ایک اہم وجہ ہے۔ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سرمایہ نکال کر نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی قیمتیں اسی طرح بلند رہتی ہیں تو بھارتی معیشت کو اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں اس طرح کی گراوٹیں عارضی بھی ہو سکتی ہیں اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کو گھبراہٹ کے بجائے صورتحال کا محتاط جائزہ لینا چاہیے۔