ایجنسیز
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو مغربی ایشیا اور یوکرین کے تنازعات کو تیزی سے ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مسئلے کو فوجی تصادم کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔مودی نے یہ ریمارکس فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کے بعد کہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان قانون کی حکمرانی، بات چیت اور سفارت کاری میں یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ صرف فوجی تنازع سے حل نہیں ہو سکتا۔ مودی نے اپنے میڈیا بیان میں کہا کہ چاہے وہ یوکرین ہو یا مغربی ایشیا، ہم تنازعات کے تیزی سے خاتمے اور امن کی طرف ہر کوشش کی حمایت جاری رکھیں گے۔گذشتہ 5روز میںوزیراعظم نے کئی ممالک کے سربراہان سے بات کی اور حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، کویت کے ولی عہد شیخ الصباح اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات کی اور مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے دوران ان کے ممالک پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔اپنی ٹیلی فونک بات چیت کے دوران مودی نے ان لیڈروں کے ساتھ ان کے ممالک میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور سیکورٹی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔مودی نے بحرین کے بادشاہ اور سعودی عرب کے ولی عہد سے بھی بات کی ہے، اور دونوں ممالک پر ان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حالیہ حملوں کی مذمت کی ، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ہندوستان اس مشکل گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیراعظم نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے بھی بات کی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی بات کی ہے۔خلیج اور مغربی ایشیا میں تقریباً 90 لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں۔ تقریباً 10,000 ہندوستانی شہری ایران میں، پڑھتے ہیں اور کام کرتے ہیں، جب کہ 40 ہزارسے زیادہ اسرائیل میں رہتے ہیں۔