بچاؤ کارروائی کے دوران 20افراد زخمی، لوگوں کی فائر بریگیڈ گاڑی کی مانگ
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ضلع ڈوڈہ کی تحصیل چلی پنگل کے مرکزی علاقے اخیار پور جکیاس میں پیش آنے والی آتشزدگی کی ایک پراسرار واردات میں لاکھوں روپے مالیت کا ساز و سامان راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوا ۔اس حادثے میں دو رہائشی مکانات اور چار دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائیوں کے دوران 20کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ذرائع کے مطابق منگل کی صبح 6بجے کے قریب بھلیسہ کے اخیار پور میں جاوید اختر وانی کے 3منزلہ رہائشی مکان سے آگ اچانک نمودار ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی مکانات اور تجارتی مراکز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس سانحہ میں جاوید اختر وانی کا 3منزلہ رہائشی مکان و 3دوکانیں مکمل طور پر خاکستر ہوئیں اور پریتم سنگھ کے چار منزلہ مکان و دوکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔اس دوران کئی قریبی دکانوں کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچا ۔حادثہ کے فوراً بعد علاقہ پنگل کے کونہ کونہ سے سینکڑوں کی تعداد میں مرد و زن جائے وقوعہ پر پہنچے اور بچاؤ کاروائی شروع کی۔سرکاری امداد اور فائر ٹینڈرز کے پہنچنے سے قبل مقامی نوجوانوں اور دیگر باشندوں نے ہمت اور جذبے کی مثال قائم کی۔سینکڑوں افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کا کام شروع کیا اور تقریباً دو گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد شعلوں پر قابو پا لیا، جس کی وجہ سے ایک بڑی تباہی ٹل گئی اور ملحقہ دیگر عمارتیں محفوظ رہیںجن میں علاقہ کی مرکزی جامع مسجد، ہائر سیکنڈری، ہائی سکول، مدرسہ و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری ادارے شامل ہیں۔تحصیلدار چلی پنگل حبیب الرحمن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آتشزدگی کی پراسرار واردات میں دو رہائشی مکانات و 4دوکانیں خاکستر ہوئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ عملہ کو مکمل رپورٹ بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں،آگ پر قابو پانے اور سامان نکالنے کی کوششوں کے دوران مچی افراتفری سے 20 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں،زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی ہے، جن میں سے مکان مالک جاوید اختر وانی و وجے کمار ولد جسونت سنگھ کو ابتدائی علاج کے بعد گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ منتقل کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ بجلی کی شارٹ سرکٹ سے آگ لگی ہے۔ ادھر پولیس نے معاملہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔اس دوران اگر چہ سب ڈویژنل ہیڈکواٹر گندوہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی جائے وقوعہ پر پہنچی اور بچاؤ کاروائی میں حصہ لیا تاہم مقامی لوگوں نے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ میں آگ کی درجنوں وارداتیں پیش آئیں ہیں لیکن اسکے باوجود یہاں فائر بریگیڈ کی گاڑی دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے کہا جب تک گندوہ و ٹھاٹھری سے گاڑیاں آتیں ہیں تب تک بہت نقصان ہوا ہوتا ہے۔علاقے کے سماجی و سیاسی ورکروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے متاثرہ خاندانوں و دکانداروں کی مالی بحالی کے لیے فوری ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ فائر بریگیڈ کی گاڑی، ایمبولینس و پولیس چوکی قائم کی جائے۔ایس ڈی ایم گندوہ ارون کمار بڈیال نے ایس ڈی پی او لو کرن سنگھ، تحصیلدار و ایس ایس ایچ او گندوہ کی موجودگی میں عوام کو یقین دلایا کہ ان مطالبات کو حکام بالا کی نوٹس میں پہنچا کر ترجیح بنیادوں پر ازالہ کیا جائے گا۔انہوں نے تحصیلدار کو ہدایت دی کہ وہ فیلڈ عملہ کی موجودگی میں نقصانات کی تفصیلی رپورٹ تیار کریں۔
اخیار پور جکیاس میں ہولناک آتشزدگی، 2مکانات اور 4دکانیں خاکستر