سجاد آہنگر
گلمرگ//کشمیر کے سب سے خوبصورت اور تاریخی سیاحتی مقام گلمرگ میں بڑھتی ہوئی غیر منظم سیاحت نے اس علاقے کی ماحولیاتی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین لوگوں اور انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر فوری طور پر پائیدار سیاحت کا ماڈل نہ اپنایا گیا تو گلمرگ اپنی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کھو بیٹھے گا۔گزشتہ برسوں میں گلمرگ میں سیاحوں کی آمد میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں یہ تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ 2025 میں سیکورٹی حالات کے باعث کچھ کمی ضرور آئی، لیکن رواں سال ایک بار پھر معمول سے کہیں زیادہ سیاحوں کے آنے کے واضح آثار ہیں۔ یہ بڑھوتری علاقے کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ماہر سیاحت اور ماحولیات پروفیسر سٹیفن گاسلنگ کے مطابق، کسی بھی علاقے میں سیاحوں کی گنجائش سے زیادہ تعداد متعدد سنگین مسائل کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے کہا، “عدم مساوات، مقامی زبانوں اور ثقافت پر اثرات، انفراسٹرکچر پر حد سے زیادہ دباؤ، اور ثقافتی تبدیلی (کلچرل کوموڈیفکیشن) جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب سے زیادہ خطرناک اور فوری توجہ کا مستحق ماحولیاتی تباہی کا مسئلہ ہے۔”ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، گلمرگ میں ہر روز 20ٹن سے زائد کچرا جمع ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس وسیع مقدار میں کچرے کو ٹھیک طریقے سے پروسیس کرنے کے لیے کوئی جدید ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ موجود نہیں ہے، جس سے زمینی اور آبی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس بحران سے نمٹنے کے لئے ماہرین بھوٹان کے پائیدار سیاحت کے ماڈل کو اپنانے کی تجویز دیتے ہے۔ ڈاکٹر اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ “ہمیں بھوٹان جیسے ماڈل اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ “بھوٹان میں ہر غیر ملکی سیاح سے روزانہ 100 ڈالر کی ‘پائیدار ترقی فیس’ (Sustainable Development Fee) وصول کی جاتی ہے۔ اس جمع ہونے والی رقم کو براہ راست ماحولیات کی بحالی، تحفظ اور مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جاتا ہے۔” وہ کہتے ہیں ہمیں کئی دیگر ملکوں سے بھی سیکھنا چاہیے۔جیسے ہر دن سیاحوں تعداد پر ایک مقررہ حد لگا دینا۔ماہرین الیکٹرانک گاڈیوں کے استعمال پر بھی زور دیتے ہیں۔ روزانہ ٹریفک جام کی وجہ ہونے والی آلودگی کو بھی وہ بہت سنجیدہ لینے کو کہہ رہے ہیں۔ وہ کہتے جب بہت ساری گاڑیاں ایک جگہ پر اسٹارٹ رہتی ہے تو اسے Contested pollution کہتے ہیں جو بہت خطرناک ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس طرح نہ صرف سیاحوں کی تعداد کو معیار حساب سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، بلکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو علاقے کے تحفظ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔گلمرگ کے ایک ہوٹل مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت میں کہا، “حقیقت یہ ہے کہ گلمرگ میں روزانہ آنے والے سیاحوں کی تعداد پر ایک ہر دن کی حد مقرر کرنے کی اشد ضرورت ہے، لیکن انتظامیہ اس جانب سنجیدہ نہیں۔”