گرم پانی کے زیادہ پینے سے جلد کی بیماریاں ختم ہونے کا احتمال
پرویز احمد
سرینگر //سخت سردی، خشک موسم اور ہوا میں نمی کی کمی کی وجہ سے وادی میںجلد کی سوزش کی بیماری موسم سرما میں کافی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ موسم سرما کے دوران مجموعی طور پر18فیصد افراد جلد کی سوزش کے شکار ہوجاتے ہیں۔ جلد کی خشکی یا سوزش کا شکار ہونے والے 16فیصد عمر رسیدہ جبکہ 20فیصد سے زائد بچے ہوتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سرد اور خشک موسم میں زیادہ گرم پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے جو جلد کی سوزش کو ختم کرتی ہے۔40دنوں کے شدید سردی کے موسمی دورانیہ ’’چلہ کلاں‘‘ اپنے پورے جوبن پر ہوتاہے، جس کے دوران شدید ٹھنڈ سے جلد خشک ہوجاتا ہے۔
سرد ہوائوں اور خشکی کی وجہ سے ہوا کی نمی بتدریج کم ہوتی ہے اور لوگ چھاتی اور جلد کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر صوبے میں موسم سرما میں درجہ حرارت میں متواتر طور پر کمی کی وجہ سے لوگ جلد کی سوزش یا خشکی کے شکار ہوجاتے ہیں۔نیشنل لیبرری آف میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر صوبے میں 10سال تک کے بچوں میں 22فیصد، 20سال تک 21.8فیصد، 30سال تک 16.8فیصد، 40سال کے درمیان 15.3فیصد، 50سال تک10فیصد، 60سال تک 7.5فیصد اور 70سال تک 4فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ماہر امراض جلد ڈاکٹر نائرہ نور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’موسم سرما میں برف یا بارش کا ہونا اسلئے ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ ہمیں کئی جسمانی بیماریوں سے دور رکھتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نور نے بتایا کہ ان میںچھاتی اور جلد کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سردیاں آتی ہیں اور موسم خشک ہوجاتا ہے تو ہوا میںنمی کی کمی کی وجہ سے انسان کا معدافتی نظام کمزور ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانس لینے سے ہوا ہماری جسم کے اندرونی اعضاء جن میں پھیپھڑے سرفہرست ہیں، اثر انداز ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر نور نے کہا کہ اسی طرح جسم کا بیرون حصہ یعنی جلد بھی ہوا میں نمی کی وجہ سے خشکی کا شکار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد خشک ہونے کی وجہ سے جلد میں سوزش اور زخم ہونے لگتے ہیں اور نمی کی کمی کا اثر جلد کا جم جانا اور دیگر بیماریاں نمایا ںکرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ اور پیر میں جلد میں سوراخ ہوجاتے ہیں جس سے سوزش ہوجاتی ہے۔