بھارت کو مضبوط اور چیلنجوں کیلئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے :وزیراعظم
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کی دفاعی اصلاحات کے فوائد آپریشن سندور کے دوران واضح طور پر دیکھے گئے اور یہ کہ بھارت کو ہر وقت سیکورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مودی نے ایک قومی خبر رساں نیوز ایجنسی کوخصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایک ایسا ملک جو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت رکھتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق جدید بنائے۔ انہوں نے بجٹ 2026-27میں دفاعی شعبے کیلئے 7.85لاکھ کروڑ روپے کے مختص کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے اور کسی بھی وزارت یا محکمے کو دی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔وزیر اعظم نے کہا’’پہلے دن سے ہمارا عزم واضح تھا، ہم اپنی افواج کی حمایت کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑے کریں گے اور انہیں مضبوط بنائیں گے‘‘۔مودی نے زور دیا کہ بھارتی مسلح افواج کو جدید بھارتی ٹیکنالوجی اور صنعت سے لیس ہونا چاہئے کیونکہ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی کے زیر اثر بدل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ڈی اے حکومت گزشتہ 11سالوں سے اس شعبے میں خود انحصاری اور جدیدکاری پر کام کر رہی ہے۔آپریشن سندور کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا’’پورا ملک ہماری افواج کی بہادری پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ اس آپریشن میں ہم نے پچھلے ایک دہائی کی اصلاحات کے فوائد واضح طور پر دیکھے‘‘۔مودی نے کہا کہ دفاعی بجٹ اور جدیدکاری کے اقدامات مستقل کوششوں کا حصہ ہیں اور انہیں کسی خاص واقعے سے جوڑنا درست نہیں۔جب وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا اس سال کا بڑا دفاعی بجٹ آپریشن سندور سے سبق سیکھنے کے نتیجے میں ہے یا اس سے پڑوسی ممالک بشمول پاکستان پر عدم اعتماد ظاہر ہوتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا’’ہاں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ملک ہر وقت مضبوط اور تیار رہنا چاہیے، اور یہی ہم کر رہے ہیں‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال دفاعی جدیدکاری کیلئے 1.85لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہیں۔ تینوں فوجی شاخوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات تقریباً 2.2لاکھ کروڑ روپے ہیں، جن میں سے 75 فیصد مقامی دفاعی صنعتوں سے خریداری کیلئے مخصوص ہے۔مودی نے کہا’’یہ نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط کرتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے اور صنعتی بنیاد کو مستحکم کرتا ہے۔ اس کے نتائج واضح ہیں ۔دفاعی برآمدات 23,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں، اور ملکی دفاعی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے‘‘۔وزیر اعظم نے سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کی حساسیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہیلتھ کیئر اسکیم کے لیے مختص رقم 12,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا’’پہلے دن سے ہمارا عزم واضح تھا ہم اپنی افواج کی حمایت کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑے کریں گے‘‘۔مودی نے ون رینک ون پنشن (OROP) کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے یہ چار دہائیوں پر محیط مطالبہ پورا کیا۔وزیر اعظم نے سابق حکومتوں پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا’’یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ رہا کہ جو لوگ دہائیوں تک ملک پر حکومت کرتے رہے، انہوں نے دفاعی شعبے کو اپنی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کیا، جیسا کہ دفاعی اسکینڈلز سے واضح ہے‘‘۔آخر میں، وزیر اعظم نے دفاعی جدیدکاری اور خود انحصاری پر زور دیا اور کہا’’ہم نے پچھلے 11 برسوں سے اس شعبے میں کام کیا ہے۔ اب سیکٹر میں کئی اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں۔ ہم بھارتی ٹیلنٹ کو اپنے فوجیوں کی حمایت اور مضبوط بھارت کیلئے حصہ ڈالنے کا موقع دیتے ہیں‘‘۔