عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت آنگن واڑی کارکنوں کو ماہانہ اضافی 600روپے کی مشاہرہ فراہم کر رہی ہے، جو ملک میں سب سے کم ہے۔ یہ معلومات جمعہ کو لوک سبھا میں پیش کی گئیں۔یاد رہے کہ مرکزی حکومت نے دوبارہ واضح کیا کہ انگن وادی کارکن، ASHAورکرز اور دیگر فرنٹ لائن کارکنان کمیونٹی کے رضاکار ہیں اور ریاستیں اضافی مالی امداد دینے کی ذمہ دار ہیں۔وزیر برائے خواتین و بچوں کی ترقی، سوتری ٹھاکر نے 13 فروری 2026 کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ جموں و کشمیر اپنی جانب سے صرف 600روپے ماہانہ اضافی رقم فراہم کر رہا ہے۔موازنہ کے طور پر دیگر ریاستوں کی اضافی اعزایہ یوںہے:ہریانہ: 10,250 روپے ،تلنگانہ: 9,150 روپے ،مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر: 8,500 روپئے ،آندھرا پردیش اور کرناٹک: 7,000روپئے ،لداخ: 1,300روپئے۔ مرکزی حکومت آنگن واڑی کارکنان اور ہیلپرز کو بنیادی اعزایہ کے طور پر 4,500اور 2,250 روپے ماہانہ فراہم کرتی ہے اور پرفارمنس پر مبنی اضافی 500 اور 250 روپے بھی دیے جاتے ہیں۔ ریاستیں اپنی بجٹ سے مزید اضافی رقم دے سکتی ہیں، جو مختلف ہوتی ہے۔مشن ساکشم آنگن واڑی اور پوسھان 2.0کے تحت کارکنوں کو اسمارٹ فون فراہم کیے گئے ہیں اور وہ پوسھان ٹریکر موبائل ایپ کے ذریعے خدمات کی نگرانی کر رہے ہیں۔مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈا نے لوک سبھا میں کہا کہ ASHA کارکن کمیونٹی ہیلتھ رضاکار ہیں اور انہیں کام اور کارکردگی کی بنیاد پر مراعات دی جاتی ہیں، نہ کہ مستقل تنخواہ۔پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں آنگن واڑی کارکنوں کو صرف 600 روپے ماہانہ اضافی اعزازیہ فراہم کی جاتی ہے، جو ملک کے دیگر ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔