عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں 31 دسمبر 2023 تک مجموعی طور پر 4,568 زیرِ سماعت قیدی (انڈر ٹرائل) بند تھے، جن میں سے 275 قیدی پانچ برس سے زائد عرصہ سے مقدمات کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ لوک سبھامیں ایک سوال کے تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے قانون و انصاف رام ارجن میگھوال نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار ’’جیل خانہ جات شماریات انڈیا 2023‘‘ رپورٹ پر مبنی ہیں، جسے این سی آر بی نے مرتب کیا ہے۔ایوان میں پیش کیے گئے مدت کے اعتبار سے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد یعنی 3,667 افراد تین برس تک کی مدت سے جیلوں میں مقید ہیں۔ اسی طرح 626 قیدی ایسے ہیں جو تین سے پانچ برس کے درمیان سے جیل میں ہیں، جبکہ 275 قیدی پانچ برس سے زیادہ عرصہ سے قید کاٹ رہے ہیں اور ان کے مقدمات ہنوز زیرِ سماعت ہیں۔زمرہ وار تفصیل کے مطابق مجموعی 4,568 زیرِ سماعت قیدیوں میں سے 165 کا تعلق درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، 432 کا درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، 187 کا دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے ہے، جبکہ 3,784 قیدی ’’دیگر‘‘ زمرے میں شامل ہیں۔دریں اثنا، لداخ میں 31 دسمبر 2023 تک زیرِ سماعت قیدیوں کی مجموعی تعداد 42 بتائی گئی ہے۔ ان میں 20 کا تعلق ایس ٹی زمرے، 6 کا او بی سی اور 16 کا ’’دیگر‘‘ زمرے سے ہے، جبکہ ایس سی زمرے سے کسی بھی زیرِ سماعت قیدی کی موجودگی درج نہیں کی گئی۔ماہرین کے مطابق زیرِ سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد اور طویل عرصہ تک مقدمات کا زیرِ التوا رہنا عدا لتی نظام پر دباؤ اور انصاف کی بروقت فراہمی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔