اشفاق سعید
سرینگر //ہندوستانی مارکیٹ میں ٹیرف فری امریکی اشیاء میں سیب اور خشک میوہ کی در آمد سے مقامی میوہ صنعت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔میوہ صنعت کو بچانے کی غرض سے آل انڈیا سطح پر فروٹ گروورس کی بائیرسیلر میٹ آزاد پور نئی دلی میں 12فروری کو منعقد ہونے جارہی ہے جس میںآئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائیگا جبکہ ہماچل تاجروںکی ایک تنظیم نے سمجھوتے کیخلاف 12فروری کو ملک گیر ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادھرمرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ بھارتی کسانوں کو اس معاہدے سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور بھارت نے کسانوں کے مفاد کے منافی کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
پہلے کیا تھا؟
2019 تک، امریکہ بھارت کو سیب کی برآمد پر 50فیصد ڈیوٹی ادا کرتا تھا۔ واشنگٹن کی جانب سے ہندوستانی سٹیل اور ایلومینیم کی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافے کے جوابی اقدام کے طور پر، ہندوستان نے 2019 میں امریکی سیب اور اخروٹ پر 20 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی، اور بادام پر 20 روپے فی کلو، جوموجودہ 50 فیصد ڈیوٹی کے اوپر تھا۔اس اضافی ٹرف سے گراوٹ اتنی شدید آئی کہ امریکی سیب کی درآمدات 2018-19 میں 1,27,908 ٹن سے کم ہو کر 2022-23 میں 4,486 ٹن رہ گئیں۔ہندوستان نے تب امریکی سیبوں پر 20 فیصد اضافی ڈیوٹی ہٹانے پر اتفاق کیا جب وزیر اعظم مودی نے جون 2023 میں امریکہ کا دورہ کیا تھا ۔ ہماچل پردیش اور کشمیر کے کسانوں کے احتجاج کے جواب میں، پیوش گوئل نے تب واضح کیا تھا کہ سیب پر ڈیوٹی میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے اور صرف جوابی 20 فیصد ڈیوٹی ہٹا دی گئی ہے۔ اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ حکومت نے بھوٹان کے علاوہ تمام ممالک سے سیب کی درآمد پر 50 روپے فی کلوگرام کی کم از کم درآمدی قیمت عائد کی ہے۔اب، قالین کی برآمد پر محصولات کے نفاذ کی طرف آتے ہیں، جو کہ حال ہی میں 2.90 فیصد پر تھا، اس سے پہلے کہ 25 فیصد اور 25 فیصد تعزیری ڈیوٹی اسے 52.90 فیصد تک لے گئی۔ بھارت کے برعکس، جس نے نہ صرف 2019 میں سیب پر عائد 20 فیصد کی جوابی ڈیوٹی ہٹا دی بلکہ 50 فیصد کی اصل ڈیوٹی کو مکمل طور پر معاف کر دیا۔ امریکہ نے اس ڈیوٹی کو 18 فیصد تک برقرار رکھنے کا انتخاب کیا ہے، جو اصل میں اس سے چھ گنا زیادہ تھا۔ اس کو سب سے اوپر کرنے کے لیے، اسے “باہمی ٹیرف کی شرح” قرار دیا گیا ہے۔
پیداواری صلاحیت
ہندوستان میں صرف 7-8 ٹن سیب فی ہیکٹر پیدا کیے جا سکتے ہیں، جب کہ بہتر جغرافیہ، جدید ٹیکنالوجی اور میکانائزیشن کی وجہ سے امریکہ، ایران، نیوزی لینڈ اور چین جیسے ممالک میں 40-70 ٹن فی ہیکٹر سیب پیدا ہوتے ہیں۔25-28 لاکھ ٹن کے درمیان سالانہ پیداوار کے ساتھ، بھارت سیب کا 7 واں سب سے بڑا پیدا کرنے والا ملک ہے، اور اس پیداوار کا تقریبا 80 فیصد کشمیر سے آتا ہے۔ صنعت، اپنے بالواسطہ اور بالواسطہ منصوبوں کے ساتھ، کشمیر کا سب سے بڑا روزگار پیدا کرنے والا ادارہ ہے، جو باغات میں فی ہیکٹر فی ہیکٹر 400 دن کام فراہم کرتا ہے، 3.5 ملین لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور ہمارے جی ایس ڈی پی میں 8 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔ زرعی و باغبانی محکموں کی رپورٹس کے مطابق کشمیر میں فی ہیکٹر سالانہ لاگت تقریباً 1.5 لاکھ سے 1.85 لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لاگت میں کھاد، ادویات سپرے، باغ کی دیکھ بھال، مزدوری، پیکنگ اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔
اب کیا ہے؟
مرکزی وزیر کامرس پیوش گوئل کا کہنا ہے ’’ ہم سیب کی پیداوار مانگ سے زیادہ پیدا نہیں کرتے‘‘۔انہوں نے گذشتہ روز پریس کانفر نس میں اس اہم معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں سیب کی مانگ 25-26 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے، لیکن ہم تقریباً 20-21 لاکھ ٹن پیدا کرتے ہیں لہٰذا، ہم ہر سال 5.5 لاکھ ٹن سیب درآمد کرتے ہیں، جس میں سے ایک بڑی مقدار امریکہ سے آتی ہے۔ وزیر نے کہا کہ ہم نے سیب کی پوری مارکیٹ نہیں کھولی ہے، ہم نے انہیں ایک کوٹہ دیا ہے جس سے ہم پہلے سے کم کوٹہ حاصل کریں گے۔” ۔مرکز کا کہنا ہے کہ اس وقت سیب کی کم از کم درآمدی قیمت 50 روپے ہے اور اس پر 50 فیصد ڈیوٹی ہے جس میں 25 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، 75 روپے کی قیمت بنیاد ہے، جس سے کم کوئی بھی سامان ملک میں داخل نہیں ہوتا ہے، تو ایک لحاظ سے، یہی وہ تحفظ ہے کہ سیب کے کسانوں کو بھی اس سے سستا مواد نہیں مل سکتا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم نے امریکہ کو جو کوٹہ دیا ہے اس میں بھی کم از کم درآمدی قیمت 80 روپے ہے۔ وہ اعلیٰ قسم کے سیب بناتے ہیں، اور اس پر 20 روپے ڈیوٹی لگتی ہے” ۔انہوں نے کہا”ایک بار پھر، ایک کوٹہ تک محدود رکھا گیا ہے،جو کہ وہ آج بھی ہندوستان کو برآمد کر رہے ہیں اور یقینی طور پر 5.5 لاکھ ٹن سیبوں کا صرف ایک حصہ جو ہم ہندوستان میں درآمد کر رہے ہیں‘‘۔
رد عمل
ہماچل ایپل گروورز ایسوسی ایشن (HAGA)کی ایک بلاک سطحی میٹنگ اتوار کو منعقد ہوئی، جس میں آس پاس کے دیہاتوں سے سیب کے کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ انہوں نے 12فروری کو ملک گیر ہڑتال میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔تاہم ہماچل ایپل گروورس ایسوسی ایشن آف انڈیا ( شملہ چپٹر)کے صدر رویندر چوہان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں ہڑتال کی اپیل کے بارے میں کوئی علمیت نہیں ہے۔انکا کہنا تھا کہ ابھی معاہدہ پورا سامنے نہیں آیا ہے اور اسکے بعد ہی آل انڈیا لیول پر میٹنگ کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔اس بارے میں جب کشمیر عظمیٰ نے آل انڈیا فروٹ گروورس ایسو سی ایشن آزاد پور منڈی نئی دہلی کے صدر مٹھا رام کرپلانی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ کیساتھ معاہدہ بظاہر بھارت کی فروٹ انڈسٹری کیلئے مثبت اشارہ نہیں ہے کیونکہ امریکی میوہ کی کوالٹی بہت اعلیٰ قسم کی ہوتی ہے اور کشمیری میوہ پر اس کا براہ راست اثر پڑنے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ بیشتر میوہ کشمیر سے ہی آتا ہے۔مٹھا رام کرپلانی نے مزید کہا کہ امریکی میوہ پہلے بھی آرہا ہے جو زیادہ تر فروری مارچ میں آنا شروع ہوجاتا ہے اور یہ ساوتھ کی ریاستوں میں ہی بھیجا جاتا ہے۔انکا کہنا تھا کہ حالیہ کچھ برسوں میں تقریباً 20فیصد کشمیری میوہ کی ساوتھ کی ریاستوں میں بھیجنے میں کمی آئی اور اگر پرانا کوٹہ امریکہ کیلئے برقرار رہتا ہے تو زیادہ خطرہ نہیں ہے لیکن 12فروری کو دلی میں بائیرسیلرمیٹ ہونے جارہی ہے جس میں اس اہم مسئلے پر تفصیلی غور و خوض ہوگا جس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا جائیگا۔فروٹ منڈی سرینگرکے صدر بشیر احمد بشیر نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی فروٹ کی بے تحاشا درآمد سے مقامی باغبانی شعبے کو شدید بحران کا سامنا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ کم قیمت پر امریکی میوہ دستیاب ہونے سے کشمیر اور ہماچل کے کسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً نوے فیصد آبادی کی روزی روٹی اسی شعبے سے جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس شعبے کو فوری تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو نہ صرف باغبانی بلکہ دیگر متعلقہ شعبے بھی متاثر ہوں گے۔فروٹ منڈی سوپور کے صدر فیاض احمد عرف کاکا جی نے کہا کہ اگر بیرونِ ممالک سے سیب درآمد کیا گیا تو یہ یہاں کے کسانوں اور فروٹ گروورز کے لیے ایک بڑی مصیبت بن جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کشمیری سیب جب بنگلہ دیش یا دیگر بیرونِ ممالک بھیجا جاتا ہے تو وہاں اس پر سو فیصد سے بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ اگر 20سے 25لاکھ روپے کی سیب سے بھری گاڑی جاتی ہے تو تقریباً 25لاکھ روپے تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم جب اپنا مال بیرونِ ملک فروخت کرتے ہیں تو ہمیں بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر بیرونِ ممالک سے سیب بغیر کسی رکاوٹ اور سستے داموں ہمارے ملک میں لایا جاتا ہے تو اس کا سیدھا اثر یہاں کے کاشتکاروں اور فروٹ گروورز پر پڑے گا۔