اشفاق سعید
کرناہ //کرناہ سمیتایل او سی کے پورے علاقے کو ہمہ موسمی وادی کشمیر سے جوڑنے کیلئے مجوزہ سادھنا ٹنل منصوبے پر عملی سطح پر پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ 1947کے بعد سے علاقے کے لوگوں کا یہ سب سے بڑا مطالبہ رہا ہے، جس نے 74سال بعد عملی شکل لینی شروع کی ہے۔اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 3300کرو ڑلگایا گیا ہے۔
3300 کروڑ کا اہم منصوبہ
مرکزی حکومت نے سال 2025 میں تقریباً 3300 کروڑ روپے کی لاگت سے سادھنا ٹنل منصوبے کو منظوری دی ۔ یہ منصوبہ وزیر اعظم ترقیاتی پروگرام (PMDP) کے تحت شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد سرحدی اور دور افتادہ علاقوں کو ہمہ موسمی رابطہ فراہم کرنا ہے۔مجوزہ سادھنا ٹنل کی لمبائی تقریباً 6 سے 7 کلومیٹر کے درمیان ہوگی، جبکہ اس کے ساتھ جدید حفاظتی نظام، ایمرجنسی پاسجز، وینٹی لیشن سسٹم اور جدید ٹنل سیفٹی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔منصوبے کی ڈیزائننگ اور فزیبلٹی سٹیڈی کی ذمہ داری بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی BERNARD Gruppe کو سونپی گئی ہے، جو ملک کے کئی بڑے ٹنل منصوبوں میں اپنی خدمات انجام دے چکی ہے۔
ابتدائی کام
منصوبے کے تحت زمینی جانچ اور تکنیکی سروے کے پہلے مرحلے میں جدید مشینری کے ذریعے مختلف مقامات پر ڈرلنگ (Drilling) کا عمل مکمل کیا گیا ہے، جس کا مقصد سرنگ کے ممکنہ راستے میں زمین کی اندرونی ساخت، چٹانوں کی مضبوطی، پانی کی موجودگی، فالٹ لائنز اور مجموعی جغرافیائی موزونیت کا تفصیلی اور سائنسی جائزہ لینا ہے۔ذرائع کے مطابق متعلقہ کمپنی کی تکنیکی ٹیم گزشتہ ایک ماہ تک کرناہ میں موجود رہی، جس دوران ٹی پی (TP) ائریا کے چار مختلف مقامات پر ڈرلنگ کی گئی۔ ان مقامات میں ٹی پی زیارت کے نزدیک 215 میٹر، ٹی پی بہک میں 60 میٹر، ٹی پی موڑ میں 51 میٹر اور ایک دیگر مقام پر 100 میٹر تک کھدائی شامل ہے۔ اس عمل کے دوران حاصل ہونے والی مٹی اور چٹان کے نمونوں کو خصوصی کوڈنگ سسٹم کے تحت محفوظ کیا گیا تاکہ تکنیکی شناخت برقرار رہے اور کسی بھی قسم کی خامی یا خلل پیدا نہ ہو۔حکام کے مطابق زمین سے حاصل شدہ تمام نمونے اب خصوصی لیبارٹریوں کو روانہ کیے جا چکے ہیں، جہاں پر انکی سائنسی جانچ کی جائے گی۔جانچ اور تجزیہ کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ سرنگ کی تعمیر کے لیے زمین کس حد تک موزون ہے، کس قسم کے حفاظتی سپورٹ سسٹم درکار ہوں گے اور کن مقامات پر اضافی تکنیکی اقدامات کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔کمپنی کے ایک سینئر آفیسر نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ انہیں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ تمام نمونوں کی رپورٹ جلد از جلد حاصل کی جائے تاکہ موزونیت رپورٹ کی بنیاد پر منصوبے کے اگلے مرحلے کی منظوری دی جا سکے۔ ان کے مطابق اگر تمام تکنیکی نتائج منصوبے کے مطابق رہے تو مارچ 2026 سے سادھنا ٹنل کی تعمیراتی کارروائی باقاعدہ طور پر شروع ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ تمام کام انتہائی باریک بینی اور سائنسی مہارت کے تحت انجام دیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی ٹنل منصوبے میں ابتدائی زمینی جانچ سب سے اہم مرحلہ تصور کی جاتی ہے اور اسی پر پورے پروجیکٹ کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے۔
موجودہ صورتحال
اس وقت کرناہ شاہراہ عموعی طور پر موسم سرما میں معمولی سی برفباری کے بعدسادھنا کے مقام پر بند ہوجاتی ہے۔عام طور پر سادھنا ٹاپ پر بھاری برفباری ہوتی ہے اور یہ راستہ کئی ہفتوں تک بند ہوجاتا ہے۔چونکہ یہ راستہ دفاعی لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور LOCتک رسائی کا واحد ذریعہ ہے اس لئے اسکی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔زندگی اور موت کا درہ سادھنا ٹاپ کرناہ کو وادی کشمیر سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ ہے، مگر یہی راستہ سردیوں کے موسم میں مقامی آبادی کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ شدید برف باری کے باعث یہ درہ کئی مہینوں تک بند رہتا ہے، جس کے نتیجے میں پورا علاقہ وادی کشمیر کے دیگر حصوں سے مکمل طور پر کٹ جاتا ہے۔ اس دوران مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں، تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں اور اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ماضی میں برفانی طوفانوں اور برف کے تودوں کی زد میں آ کر کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جس کے باعث مقامی لوگ سادھنا ٹاپ کو زندگی اور موت کا درہ قرار دیتے ہیں۔ انہی مشکلات کے پیش نظر سادھنا ٹنل کی مانگ گزشتہ کئی دہائیوں سے کی جا رہی تھی۔