آپریشنز کو تیز رفتار اور نتیجہ خیز بنایا جائے، سیکورٹی جائزہ اجلاس میں وزیر داخلہ کی ہدایات
یو این آئی
جموں// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کے روز جموں میں ایک نہایت اہم اور اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے واضح اور دو ٹوک ہدایت دی کہ بین الاقوامی سرحد سے کسی بھی قسم کی دراندازی کو ہر حال میں روکنا ہوگا اور جموں کے بالائی علاقوں میں چھپے پاکستانی ملی ٹینٹوںکے خلاف فیصلہ کن اور جارحانہ کارروائیاں تیز کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کی سپلائی لائنز کو منقطع کرنا اب اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ملی ٹینٹوںکی نقل و حرکت اور کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔ہیرانگر کے دورے سے واپسی کے فوراً بعد وزیر داخلہ نے جموں کے لوک بھون میں اس اہم سیکورٹی میٹنگ کی سربراہی کی۔ میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، آرمی چیف جنرل اوپیندرا دیویدی، مرکزی داخلہ سیکریٹری گووند موہن، چیف سیکریٹری اتل ڈلو، ناردرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، وائٹ نائٹ کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا، ڈی جی پی نلین پربھات، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، بی ایس ایف کے ڈی جی پروین کمار، سی آر پی ایف کے ڈی جی جی پی سنگھ سمیت فوج، پولیس، انٹیلی جنس اور سول انتظامیہ کے سینیئر افسران شریک تھے۔ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے انسدادِملی ٹینسی کارروائیوں، سرحدی نگرانی اور ڈرون سرگرمیوں کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ سیکورٹی فورسز سرحد پار سے کسی بھی قیمت پر دراندازی کو روکیں۔
امت شاہ نے بالائی علاقوں میں روپوش پاکستانی ملی ٹینٹوںکے خلاف فوری اور جارحانہ آپریشنز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملی ٹینٹوںکو کسی بھی صورت سپلائی، رابطہ یا رسد کی سہولت نہ ملنے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹینٹوںکے نیٹ ورکس، ہائبرڈ سرگرمیوں اور سرحد پار موجود لانچ پیڈز کے خلاف آپریشنز کو ’تیز رفتار اور نتیجہ خیز‘ بنایا جائے۔وزیر داخلہ نے سیکورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس کیے گئے آپریشنز، خاص طور پرملی ٹینسی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں نے ملی ٹینٹ تنظیموں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور جرأت مندانہ حکمتِ عملی نے جموں و کشمیر میں مجموعی امن و امان کے ماحول کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اجلاس میں موجود اعلیٰ فوجی افسران نے وزیر داخلہ کو حالیہ انٹیلی جنس اطلاعات، ملی ٹینٹ گروپوں کی سرگرمیوں، سرحدی نقل و حرکت، اور ڈرون کے ذریعے ہتھیار و منشیات کی اسمگلنگ کے تازہ رجحانات پر بریفنگ دی۔وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ مرکزی حکومت ملی ٹینسی کے خاتمے کے لیے فورسز کو ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جموں و کشمیر مکمل طور پر ملی ٹینسی سے پاک ہوگا۔‘ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ملک کی سرحدوں اور حساس پہاڑی علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے، اور فورسز کی آپریشنل رَیچ بڑھانے کے لیے جدید آلات، جدید سرویلنس سسٹمز اور ہائی ٹیک کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز فراہم کیے جا رہے ہیں۔میٹنگ کے بعد وزیر داخلہ نے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کے ورثا کو تقرری نامے بھی حوالے کیے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کی قربانیوں کا احترام کرنا ملک کا فرض ہے۔یہ ایک ماہ کے اندر وزیر داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی کا دوسرا جامع جائزہ ہے۔ 8جنوری کو دہلی میں ایک اہم میٹنگ میں انہوں نے ہدایت دی تھی کہ ملی ٹینسی کے ڈھانچے، نیٹ ورک اور مالی سہولیات کو ’مشن موڈ‘ میں ختم کیا جائے۔ اس کے علاوہ جنوری کے وسط میں ہوم سیکریٹری نے بھی جموں میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔وزیر داخلہ آج یعنی ہفتے کی صبح 10:30بجے لوک بھون میں جموں و کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیں گے۔ اس میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، چیف سیکریٹری اتل ڈلو اور دیگر سینئر افسران شریک ہوں گے۔ اجلاس میں انفراسٹرکچر، فلاحی اسکیموں، نئی حکمتِ عملیوں اور ترقیاتی اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔بعد ازاں سہ پہرکو وہ نئی دہلی واپس روانہ ہوں گے۔