عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں آج وزیراعلیٰ عمرعبداللہ مالی سال 2026-27کے لیے سالانہ بجٹ پیش کرینگے، جسے موجودہ اسمبلی اجلاس کا سب سے اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے بجٹ حجم پر نظر ڈالیں تو حکومت کی مجموعی مالی وسعت میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مالی سال 2023-24کے لیے جموں و کشمیر کا بجٹ حجم تقریباً 1.18لاکھ کروڑ روپے رہا، جبکہ 2024-25میں یہ بڑھ کر تقریباً 1.30لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں 2025-26کے بجٹ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے حجم کو تقریباً 1.38لاکھ کروڑ روپے کے آس پاس رکھا گیا، جس کا مقصد ترقیاتی اخراجات، سماجی شعبوں اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا تھا۔حکومتی ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27کے بجٹ میں بھی بجٹ حجم میں مزید اضافے کا امکان ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی عوامی ضروریات، مہنگائی کے دباؤ اور ترقیاتی اہداف کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
اس بجٹ کے ذریعے حکومت اپنی معاشی ترجیحات، محصولات کے ذرائع اور اخراجاتی حکمت عملی کو واضح کرے گی۔ آنے والے بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، نوجوانوں کی ہنرمندی، خواتین کی خود کفالت، کسانوں اور باغبانی شعبے کی بہتری، دیہی ترقی اور شہری انفراسٹرکچر پر خاص توجہ دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی، پانی، سڑکوں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نئے منصوبوں اور جاری اسکیموں کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کیے جانے کی توقع ہے۔صحت کے شعبے میں سرکاری اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور بنیادی صحت مراکز کی بہتری، جبکہ تعلیم کے شعبے میں اسکولوں، کالجوں اور ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات متوقع ہیں۔ سیاحت، جو جموں و کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، اس کے لیے بھی بجٹ میں نئی اسکیموں اور سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ بجٹ پیش کیے جانے کے بعد اسمبلی میں اس پر تفصیلی بحث ہوگی، جس کے دوران حزب اختلاف حکومت سے گزشتہ بجٹ وعدوں کے نفاذ، مالی نظم و ضبط اور عوامی ریلیف پر جواب طلبی کرے گی، جبکہ حکمران اتحاد بجٹ کو ترقی دوست اور عوامی مفاد میں قرار دینے کی کوشش کرے گا۔