عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمعرات کی شام جموں و کشمیر کے تین روزہ اہم دورے پر پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ایسی اعلیٰ سطحی میٹنگوں کی صدارت کریں گے جنہیں موجودہ حالات کے لحاظ سے بے حد اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ خطے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سرحدی دراندازی کی کوششوں، کشتواڑ اور راجوری میں ملی ٹینٹوں کے ساتھ جھڑپوں اور بعض حساس اضلاع میں ملی ٹنٹ سرگرمیوں کے دوبارہ بڑھنے کے پس منظر میں وزیر داخلہ کا یہ دورہ سیکورٹی ایجنسیوں کی حکمتِ عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ اپنے دورے کے پہلے ہی روز بی ایس ایف کی بوبیا اور گورنام فارورڈ پوسٹس کا معائنہ کریں گے جہاں سرحدی صورتحال، نگرانی کے نئے اقدامات اور انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن پر انہیں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ وہ مہلوک اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے انہیں سرکاری تقرری نامے بھی پیش کریں گے۔
جمعہ کے روز وزارت داخلہ کی جانب سے ایک جامع سیکورٹی میٹنگ طے کی گئی ہے جس میں فوج، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف، بی ایس ایف، انٹیلی جنس بیورو اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کے سربراہان شریک ہوں گے۔ اس میٹنگ میں ایک بار پھر ایل او سی سے ملحقہ علاقوں میں دراندازی کے بدلتے طریقۂ کار، گھنے جنگلات میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی، ڈرون سرگرمیوں، اور زمینی نگرانی کو مستحکم کرنے جیسے امور پر تفصیلی غور ہوگا۔
وزیر داخلہ اپنے اس دورے کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے فیلڈ ورک، فنڈ کے استعمال اور عوامی بہبود سے متعلق اسکیموں پر بھی میٹنگیں کریں گے جن میں اسمارٹ سٹی پروجیکٹس، ہائی وے توسیعی کام، اسکولوں اور اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، نئے میڈیکل کالجوں کی تعمیر اور نوجوانوں کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔ انتظامی محکموں کے اعلیٰ افسران انہیں زمینی سطح پر پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور آئندہ مرحلوں کے لائحۂ عمل سے متعلق سفارشات بھی پیش کریں گے۔
دوسری جانب، ریاستی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما نے امت شاہ کے دورے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور ترقیاتی رفتار میں مزید تیزی آئے گی۔ بی جے پی کی رکن اسمبلی شگون پریہار نے بھی وزیر داخلہ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امت شاہ ہمیشہ جموں و کشمیر کی عوامی توقعات پر پورا اترے ہیں اور خطے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ جبکہ نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے وزیر داخلہ کے دورے کو امید کی کرن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سب سے اہم مسئلہ ریاستی درجہ کی بحالی ہے، جس کا وعدہ پارلیمنٹ میں کیا گیا تھا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیریوں پر ہونے والے حملوں پر بھی سخت نوٹس لینے کی اپیل کی۔
دورے کے پیش نظر وادی بھر میں سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ سری نگر شہر کے داخلی و خارجی راستوں، لال چوک، ایئرپورٹ روڈ، پانتھ چوک، نشاط، ڈل گیٹ اور بائی پاس پر اضافی چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں شناختی کارڈ کی جانچ اور گاڑیوں کی کڑی تلاشی لی جا رہی ہے۔ فضائی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے اور حساس علاقوں میں ڈرون گشت شروع کیا گیا ہے۔
امت شاہ کا تین روزہ دورۂ جموں و کشمیر آج سے شروع، اہم سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کریں گے