عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ بجٹ 2026-27 آئندہ چند برسوں میں بھارت کو پانچ کھرب ڈالر کی معیشت بنانے کی راہ ہموار کرتا ہے اور ایک ترقی یافتہ معیشت کے حصول کے لیے ملک کے پرعزم وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں ماحول دوست پہاڑی ٹریلز کی ترقی پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کا شکریہ ادا کیا۔
بجٹ 2026-27 کو “عملی اور حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے، خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق کہا کہ یہ اقدام نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے میں نئی جان ڈالے گا۔
انہوں نے کہا، “یہ بجٹ اقتصادی رفتار کو تیز کرنے، مستقبل کے لیے تیار بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے، ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے اور آئندہ چند برسوں میں پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف کی راہ متعین کرتا ہے، جبکہ جامع مالی حکمت عملی ترقی اور سماجی بہبود کے درمیان توازن قائم کرے گی۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ بجٹ 2026-27 اقتصادی توسیع میں تیزی، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سات اسٹریٹجک شعبوں میں مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو فروغ دینے اور فلاحی اقدامات سے وابستگی پر زور دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ابھرتی صنعتوں میں انقلابی اثرات، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (ISM) 2.0 کے ذریعے سیمی کنڈکٹر شعبے کو نئی رفتار، اور خصوصی نایاب معدنی زونز کے قیام سے بھارت کا دیگر ممالک پر انحصار کم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI)، روزگار کی تخلیق اور خدماتی شعبے کو مرکزی حیثیت دینے سے بھارت کی مسابقتی برتری ہر اقتصادی میدان میں مضبوط ہوگی، جبکہ یہ ترقی پسند مالی خاکہ ہمہ گیر شعبہ جاتی توسیع اور عالمی سطح پر نمایاں مقام کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا، “بجٹ 2026-27 آئندہ چند برسوں میں پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کی راہ ہموار کرتا ہے اور دو دہائیوں سے کم عرصے میں ترقی یافتہ معیشت بننے کے ہمارے عزائم کو پیش کرتا ہے۔ یہ بجٹ نوجوانوں، خواتین اور کسانوں کو غیر معمولی بااختیار بنانے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔ مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچہ، ایم ایس ایم ایز، صحت، شہری ترقی، الیکٹرانکس اور سپلائی نیٹ ورکس مستقبل کی حکمت عملی کا مرکز ہوں گے، جس سے گھریلو پیداوار میں اضافہ اور بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی ممکن ہوگی۔