لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ آخری رسومات کیلئے اسناد اموات کے منتظر
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//گزشتہ سال اگست میں جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ کے بعد لاپتہ ہونے والی اپنی 22 سالہ بیٹی اور اس کی سہیلی کے بارے میں جواب تلاش کرتے ہوئے پنجاب کے ضلع جالندھر سے تعلق رکھنے والے راجیش کمار اور بندیّا کئی ماہ سے مایوسی کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔اسی سانحے میں جموں کے ایک اور خاندان نے اپنے آٹھ افراد کو کھو دیا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ معاوضہ نہیں مانگ رہے بلکہ صرف سرکاری تصدیق چاہتے ہیں ، ایسے ڈیتھ سرٹیفکیٹس جن کی بنیاد پر وہ اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔ڈی این اے رپورٹس تاخیر کا شکار ہونے کے باعث، ان کا کہنا ہے کہ ہر گزرتا دن اس اذیت کو بڑھا رہا ہے کہ وہ امید قائم رکھیں یا نقصان کو قبول کر لیں۔یہ تباہ کن کلاؤڈ برسٹ 14اگست 2025کو چسوتی گاؤں میں آیا، جو مچیل ماتا مندر کا داخلی راستہ ہے۔ اس سانحے میں زیادہ تر یاتریوں سمیت 65افراد ہلاک ہوئے جبکہ 30سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے۔اپنی بیٹی ونشیکا اور اس کی سہیلی دِشا کی تصاویر تھامے، راجیش کمار اور بندیّا بدھ کے روز پریس کلب کے باہر جمع ہونے والے ان کئی افراد میں شامل تھے جو انصاف اور جواب کا مطالبہ کر رہے تھے۔جذباتی بندیّا نے کہا’’ہم سب اکٹھے چل رہے تھے۔ ہماری بیٹی اور اس کی سہیلی ہم سے آگے نکل گئیں اور پھر ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ہم بے چینی سے کسی خبر کے منتظر ہیں اور انصاف چاہتے ہیں‘‘ ۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت پر الزام عائد کیا کہ اب تک ان کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔انکاکہناتھا’’ستمبر میں ہمیں ڈی این اے سیمپل دینے کے لیے بلایا گیا تھا لیکن آج تک ہمیں کوئی رپورٹ فراہم نہیں کی گئی‘‘۔کمار نے بتایا کہ خاندان نے لاپتہ خواتین کا سراغ لگانے کے لیے بار بار کوششیں کیں۔انہوںنے کہا’’ہم نے ڈیتھ سرٹیفکیٹس کے لیے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے پاس حلف نامے جمع کرائے اور 8ستمبر کو ڈی این اے سیمپلز دیے، لیکن آج تک جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ انہیں کوئی معاوضہ بھی نہیں ملا۔انکاکہناتھا’’میری بیٹی اور اس کی سہیلی ایم بی اے کی طالبات تھیں اور ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کرے تاکہ ہم ضروری رسومات ادا کر سکیں‘‘۔اسی طرح کی روداد جموں کی ریشم گڑھ کالونی کے رہائشی رمیش کمار نے بھی سنائی، جنہوں نے اس سانحے میں اپنی دو بہنوں سمیت آٹھ رشتہ داروں کو کھو دیا۔انکاکہناتھا’’ہمیں صرف ایک لاش ملی ہے جبکہ سات افرادبشمول تین خواتین اور چار بچے اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہم پیسے نہیں مانگ رہے، ہم صرف انصاف چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بہن اور اس کے دو بچے بشمول سات سالہ بچی اور پانچ سالہ لڑکالاپتہ افراد میں شامل ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سانحے کے پہلے دن سے ہی بدانتظامی رہی۔انکامزید کہناتھا’’میرے دوستوں نے جائے حادثہ سے واحد لاش نکالنے میں میری مدد کی، جبکہ انتظامیہ کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا۔ ہمارے والدین شدید ذہنی اذیت میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کو مردہ قرار دیا جائے تاکہ کم از کم ہم آخری رسومات ادا کر سکیں۔ہم اپنے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن ہمیں اختتام اور اطمینان کا حق ضرور ہے‘‘۔