اشفاق سعید
کرناہ //نالہ قاضی ناگ کے کھدری گائوں میںزیر تعمیر 12 میگاواٹ ہائیڈل پاور پروجیکٹ، نئی ڈیڈ لائن کے مطابق جون، جولائی 2026 میں مکم ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔پروجیکٹ کے زیادہ تر بڑے اور اہم حصے تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور مختلف تکنیکی معاملات بھی آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
پروجیکٹ کی موجودہ پیش رفت
پروجیکٹ کیلئے بننے والی پاورکنال کی لمبائی (1.25) کلومیٹر جبکہ ٹنل کی لمبائی (170) میٹر ہے جن کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ٹرینچ وئیر، (پاور ان ٹیک)، (سرج ٹینک)، پاور ہاس(ٹی آر سی)، اور سوئچ یارڈ مکمل ہو چکے ہیں ۔الیکٹرو مکینیکل کا( 80 فیصد مکمل(ایچ آر پی) کا 70 فیصد اور ٹنل کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ،بجلی گھر میں تمام بڑی مشینیں نصب کر دی گئی ہیں۔
تاخیر کی بنیادی وجہ
12 میگاواٹ بجلی پروجیکٹ، جسے سال 2021 میں منظوری دی گئی تھی اور جس کی تکمیل کی ابتدائی مدت 2025 مقرر کی گئی تھی، گزشتہ برسوں کے دوران متعدد رکاوٹوں کے باعث تاخیر کا شکار رہا ۔ محکمہ بجلی کے حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پروجیکٹ کی تاخیر کی سب سے بڑی وجہ سادھنا گلی کا طویل عرصہ بند رہنا ہے، کیونکہ شدید برف باری کے دوران اس اہم راستے کی بندش سے بھاری مشینری، تعمیراتی سامان اور افرادی قوت کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی راستے سے حساس اور بھاری آلات لانا تکنیکی طور پر نہایت مشکل تھا، جس سے کام کی رفتار بارہا رک گئی۔ اس کے علاوہ پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی ہندپاک کشیدگی نے بھی پروجیکٹ کی تعمیراتی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر ڈالا، کیونکہ اس دوران سیکورٹی پابندیوں، افرادی قوت کی محدود نقل و حرکت اور مختلف تکنیکی مراحل میں تعطل نے کام کو مزید سست کر دیا۔ ایگزیکٹو انجینئر محمد اقبال نے مزید کہا کہ موسمِ سرما کی سختی بھی ایک بڑی رکاوٹ رہی، کیونکہ کرناہ کے سرد موسم میں کنکریٹ کا کام، کھدائی، ٹنل،کنال کی تعمیر اور مشینیں نصب کرنے جیسے عمل ممکن نہیں رہتے، اور کئی مہینوں تک صرف محدود نوعیت کا کام ہی انجام دیا جا سکتاہے۔ تاہم ایگزیکٹو انجینئر کے مطابق جیسے ہی حالات بہتر ہوئے، پروجیکٹ پر کام دوبارہ تیزی سے شروع کیا گیا اور اس وقت بھی پوری رفتار کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر حالات معمول کے مطابق رہے تو پروجیکٹ کو جون جولائی 2026 میں کمیشن کر دیا جائے گا۔
کمزور ترسیلی نظام
پورے کرناہ کو بجلی آرم پورہ گریڈ سٹیشن سے فراہم کی جا رہی ہے، مگر سادھنا گلی میں مضبوط ٹاورز کی کمی اور پرانی لائنوں کے سبب موسمِ سرما میں سپلائی بار بار متاثر ہوتی ہے۔دیہی علاقوں کی حالت مزید خراب ہے، جہاں کئی جگہوں پر کھمبے تک نصب نہیں ہیں اور تاریں درختوں سے باندھی گئی ہیں۔
ماضی کا بجلی پروجیکٹ
ماضی میں کرناہ کے لیے سب سے بڑا سہارا پنگلہ ہری ڈل کا2 میگاواٹ پروجیکٹ تھا، جو کئی برسوں تک مقامی ضروریات بڑی حد تک پورا کرتا رہا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ کی مشینری پرانی پڑتی گئی اور چند سال قبل دونوں پیداواری یونٹس مکمل طور پر ناکارہ ہو گئے۔ اس کے بعد کرناہ عملاً مقامی پیداوار سے محروم ہوگیا۔
مقامی ردِعمل
مقامی آبادی اس منصوبے کو برسوں سے جاری بجلی بحران کے حل کی واحد امید قرار دے رہی ہے، کیونکہ اس کی تکمیل سے کرناہ پہلی بار مستقل بجلی سپلائی نیٹ ورک سے جڑ سکے گا۔ سردیوں میں ہفتوں تک جاری رہنے والا بلیک آئوٹ ختم ہو سکے گا اور کاروبار، تعلیم، صحت سمیت روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ نالہ قاضی ناگ کے ساتھ مضبوط حفاظتی بندھ اور مکمل فینسنگ کی جائے۔