عظمیٰ نیوز سروس
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کالعدم ملی ٹینٹ تنظیموں کے ساتھ مبینہ طور پر سرگرم روابط کے الزام میںمزید 5سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے کا حکم دیا ہے۔2021کے بعد ملی ٹینسی سے تعلق کی پاداش میں اب تک 87ملازمین نوکریوں سے برطرف کئے جاچکے ہیں۔جولائی 2021میں اس کارروائی کی شروعات 11ملازمین سے کی گئی تھی۔اگست 2025تک برطرف کیے گئے سرکاری ملازمین کی تعداد 82 ہو گئی تھی۔اب مزید 5کی برخاستگی کیساتھ مجموعی تعداد 87تک پہنچ گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ تازہ کارروائی میں برطرف کیے گئے ملازمین میں محمد اشفاق( ایک سرکاری سکول ٹیچر)،طارق احمد راہ(ایک لیبارٹری ٹیکنیشن)، بشیر احمد میر( اسسٹنٹ لائن مین) فاروق احمد بٹ (محکمہ جنگلات میں درجہ چہارم ملازم) اور محمد یوسف کمار (محکمہ صحت اور طبی تعلیم میں ڈرائیور) شامل ہیں۔محمد یوسف کمار (ڈرائیور)جو اس وقت سینٹرل جیل سرینگر میں بند ہے، کی شناخت حزب المجاہدین کے ایک انڈیکسڈ اوور گرانڈ ورکر کے طور پر کی گئی ہے جس کا پاکستان میں مقیم ہینڈلر بشیر احمد بھٹ کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس نے سرحد پار سے ایچ ایم کے لیے اسلحہ، گولہ بارود، اور فنڈز جمع کئے تھے اور 20 جولائی 2024 کو گاندربل پولیس نے اسے گرفتار کیاتھا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں ایک پستول، گولہ بارود، ایک دستی بم اور 5 لاکھ روپے کی نقدی بر آمد کی گئی اور اسکے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 183/2024 درج کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران SKIMS میں ایمبولینس ڈرائیور کی پوزیشن کو آپریشنل کور کے طور پر غلط استعمال کرنے کا انکشاف کیا۔محکمہ جنگلات کے ملازم فاروق احمد بھٹ کے حزب المجاہدین کے ساتھ دیرینہ روابط تھے اور 2005 میں ایچ ایم کمانڈر محمد امین بابا کے فرار میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ اس نے ایک سرکاری گاڑی کا بندوبست کیا، اور سرحد پار سے غیر قانونی نقل و حرکت کے لیے کمانڈر کو بجبہاڑہ سے اٹاری تک ذاتی طور پر لے گیا۔ انٹیلی جنس معلومات نے مزید انکشاف کیا کہ ملی ٹینٹوں کو پناہ دینے، نقل و حمل اور مدد فراہم کرنے میں اس کے مسلسل کردار سے سنگین اندرونی خطرہ لاحق ہے۔طارق احمد راہ، ایس ڈی ایچ بجبہاڑہ کے ایک لیب ٹیکنیشن نے مبینہ طور پر اپنے چچا کمانڈر محمد امین بابا کے ذریعے حزب المجاہدین کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کے لیے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا۔ تحقیقات میں 2005 میں پناہ گاہ اور لاجسٹک سپورٹ کا بندوبست کرکے کمانڈر کے فرار کی سہولت فراہم کرنے میں اس کے ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی۔بھدرواہ کے ایک سرکاری استاد محمد اشفاق کا لشکر کمانڈر محمد امین عرف خبیب کے ساتھ مسلسل رابطہ پایا گیا تھا۔ حکام نے کہا کہ وہ ڈوڈہ میں ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کی سازش میں ملوث تھا اور اس کا تعلق ہتھیاروں کی نقل و حرکت اور ملی ٹینسی کے تعاون سے تھا۔ اپریل 2022 میں گرفتار کیا گیا اور غیر قانونی سرگرمیاں(روک تھام) ایکٹ کے تحت چارج شیٹ کیا گیا، اس نے مبینہ طور پر نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کیا اور جیل سے بھی نظریاتی اثر و رسوخ جاری رکھا۔ وہ اس وقت جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں بند ہے۔گریز کے ایک اسسٹنٹ لائن مین بشیر احمد میر کی شناخت لشکرکے طویل مدتی اپر گرائونڈ ورکر کے طور پر کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس نے بانڈی پورہ گریز بیلٹ میں لشکرکے ملی ٹینٹوں کو پناہ، رسد کی مدد اور نقل و حرکت کی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومتی پوزیشن کا فائدہ اٹھایا۔ اس کی شمولیت 2021 کے انکائونٹر میںثابت ہوئی جس میں اس کے گھر کے اندر دو ملی ٹینٹ مارے گئے۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات اور انٹیلی جنس معلومات نے اشارہ کیا کہ اس نے ضمانت حاصل کرنے کے بعد بھی تنظیم کی نظریاتی حمایت اور خفیہ سہولت کاری جاری رکھی۔