تعمیراتی سرگرمیاں بحال ،معاوضہ نہ ملنے پر متاثرہ زمینداروں کی تشویش برقرار
محمد تسکین
بانہال// قریب تیرہ برس کے طویل عرصے تک تنازع کا شکار رہنے کے بعد کھارپورہ، شابن باس اور رتن باس کو جوڑنے والی رابطہ سڑک کا بقایا کام محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی جانب سے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، جس سے کھارپورہ اور شابن باس کی مقامی آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انتظامی بد نظمی کا شکار ہوئی یہ سڑک برسوں سے ادھوری پڑی تھی جس کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کھارپورہ ۔ شابن باس سڑک کی تعمیر کا آغاز تقریباً پندرہ سال قبل سابقہ ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول کے دور میں شروع ہوا تھا، تاہم محکمہ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی اور متاثرہ زمینداروں کو معاوضہ ادا نہ کیے جانے کے سبب نیشنل ہائی وے کے ٹیک آف پوائنٹ پر کام بند کر دیا گیا تھا اور تب سے ابتک اس کا کوئی حل نہیں نکالا جا سکا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کہ حالیہ دنوں میں ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان، سب ڈویژنل مجسٹریٹ بانہال محمد نصیب اور تحصیلدار بانہال امجد طالب کین کی مداخلت سے تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں اور اس سے کھارپورہ اور شابن باس کے عوام نے اطمینان کا سانس لیا ہے ۔اس موقع پر بانہال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر محمد سلیم بٹ نے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر جتندر سنگھ اور ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی مداخلت کے باعث یہ اہم منصوبہ دوبارہ شروع ہو سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسی طرز پر گوجر ناڑ بنکوٹ، آلن ڈار، ایتو ناڑ درشی پورہ اور ناگام ہالیمیدان سمیت دیگر نامکمل سڑکوں کو بھی جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس موجود محکمہ تعمیرات عامہ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال کا حصہ کھارپورہ اور گوجر بستی شابن باس اور رتن باس کو جوڑنے کے لیے چھ کلو میٹر طویل اس سڑک کی تعمیر2010میں انتظامی منظوری کے بعد شروع کی گئی تھی اور2015تک سڑک کے درمیان تقریباً اڑھائی کلو میٹر حصے کی کھدائی اور قریب دو کلو میٹر حصے پر حفاظتی دیواریں تعمیر کی گئیں، تاہم تاحال اس سڑک کو نیشنل ہائی وے کے ٹیک آف پوائنٹ سے نہیں جوڑا جا سکا اور نہ ہی منصوبے کی تکمیل کے لیے اضافی فنڈز اور معاوضے کا بندوبست ہو سکا، جس کے باعث متاثرہ زمینداروں میں مایوسی برقرار ہے۔کھارپورہ، گنڈ عدلکوٹ اور شابن باس کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سڑک کی کھدائی کے باعث ناگام، گنڈ عدلکوٹ، کھارپورہ، شابن باس، وانی پورہ اور رتن باس کے رہائشیوں کی تقریباً 56کنال ملکیتی اراضی اور ثمردار درخت متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی کھدائی سے نکلا ملبہ گزشتہ پندرہ برسوں سے کھارپورہ ۔ شابن باس اور گنڈعدلکوٹ کے زمینداروں کی زمینوں میں ڈالے جانے کے سبب اراضی بنجر ہو چکی ہیں اور معاوضے کی رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے ۔ مقامی زمیندار الیاس احمد ایتو کے مطابق تقریباً نو سال قبل ایس ڈی ایم اور تحصیلدار بانہال نے متاثرین کے حق میں 9کروڑ 21لاکھ روپے کا ابتدائی تخمینہ تیار کر کے پی ڈبلیو ڈی ڈویژن رام بن کو ارسال کیا تھا، تاہم اب تک محض 39لاکھ روپے ہی چند زمینداروں کو معاوضے کے طور پر ادا کیے گئے، جبکہ 8کروڑ 81لاکھ روپے تاحال واجب الادا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے وقت کے افسروں اور حکمرانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کی درخواستیں کی گئیں لیکن تاحال لوگوں کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے ممبر اسمبلی بانہال ، ڈپٹی کمشنر رام بن اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ زمینوں، ثمردار درختوں اور دیگر نقصانات کا فوری معاوضہ واگزار کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے اور اس اہم رابطہ سڑک کو فوری طور پر مکمل کر کے قابلِ آمدورفت بنایا جا سکے۔