عظمی نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس ہر صورت اور ہر سطح پر جموں و کشمیر کی وحدت، شناخت، انفرادیت ، اجتماعیت اور آپسی ہم آہنگی کو قائم و دائم رکھنے کے اپنے منشور اور اصولوں پر چٹان کی طرح قائم ہے۔ اس تاریخی ریاست کو 1947میں ملک کے ساتھ الحاق کے وقت جو آئینی اور جمہوری حقوق حاصل ہوئے تھے، اُن کی بحالی سے ہی یہاں کے عوام کا نئی دلی پر بھروسہ اور اعتماد بحال ہوگا اور اسی صورت میں ملک اور جموں و کشمیر کے درمیان خوشگوار تعلقات، تعمیرو ترقی اور امن و آشتی پیدا ہوسکتی ہے۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی ملک کے مفاد ہے اور جتنا جلدی یہ اقدام اُٹھایا جائیگا اُن ہی ملک کیلئے اچھا ہے۔ جموں کشمیر کا رشتہ مرکز کے ساتھ جن اصولوں پر آنجہانی ہری سنگھ نے کیا ہے ان پر ہی عمل کرکے ریاست کی ترقی،خوشحالی اوور امن و سکون کا راز مضمر ہے۔عوام کو ہر سطح پر راحت پہنچانے کا اپنا عزم دہراتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی عوامی نمائندہ سرکاری عوام کی خدمت کرنے کی پابند ہے کیونکہ عوامی حمایت کی بنا پر نیشنل کانفرنس کی حکومت معرض وجود آئی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اس وقت دن رات عوامی فلاح کے کاموں میں مصروف ہے اور اُمید ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے بعد حکومت زیادہ مؤثر طریقے سے عوام کو راحت پہنچا سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت تمام خطوں کیساتھ یکساں سلوک روا رکھے گی اور تمام خطوں کی تعمیر و ترقی کے کام مساوی بنیادوں پر ہونگے۔ ہم نے عوام کو راحت پہنچانے کا وعدہ کیاہے اور ہماری حکومت اس سمت میں کام پر لگی ہوئی ہے۔