سبدر شبیر
کشمیر اپنی تہذیبی روایت، خاندانی اقدار اور فکری سنجیدگی کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کبھی بچے بزرگوں کی گود میں کہانیاں سنتے، کھلے میدانوں میں کھیلتے اور علم و ادب سے فطری رشتہ استوار کرتے تھے۔ مگر اکیسویں صدی کی ڈیجیٹل یلغار نے اس معاشرتی منظرنامے کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ آج کشمیر کے کمسن بچے ایک ایسی اسکرین سے جُڑ چکے ہیں جو بظاہر انہیں دنیا سے جوڑتی ہے، مگر درحقیقت انہیں اپنے ماحول، اقدار اور خود اپنی ذات سے دور کرتی جا رہی ہے۔موبائل فون بذاتِ خود نہ خیر ہے نہ شر، بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ ذریعہ مقصد بن جائے۔ کمسن بچوں میں موبائل فون، سوشل میڈیا، وی لاگنگ، لائکس اور فالوورز کی غیر معمولی کشش نے ایک نئی نفسیات کو جنم دیا ہے، جہاں توجہ حاصل کرنا کامیابی اور نظر آنا شناخت بن چکا ہے۔ اس دوڑ میں بچے نہ صرف اپنی عمر سے بڑی ذمہ داریاں اٹھا رہے ہیں بلکہ اکثر ایسے رویّے اپنا رہے ہیں جو ان کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا کے کوئی مثبت پہلو نہیں۔ تعلیمی ویڈیوز، تخلیقی اظہار، ڈیجیٹل مہارت اور عالمی آگاہی جیسے فوائد بھی اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہیں۔ کئی بچے ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکھنے، لکھنے اور سوچنے کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم مسئلہ تب سنگین ہوتا ہے جب کمسن عمر میں بغیر رہنمائی، بغیر حد اور بغیر شعور کے اس دنیا میں داخلہ دیا جائے۔ ایسا بچہ فائدہ کم اور نقصان زیادہ سمیٹتا ہے۔
وی لاگنگ اور لائکس کی دوڑ بچوں کے اندر ایک غیر فطری خود اعتمادی اور شدید احساسِ وابستگی پیدا کرتی ہے۔ وہ اپنی قدر کا تعین کمنٹس اور ویوز سے کرنے لگتے ہیں۔ کم لائکس ملنے پر مایوسی، غصہ اور احساسِ کمتری جنم لیتا ہے، جبکہ زیادہ توجہ ملنے پر انا اور خود نمائی بڑھتی ہے۔ یہ نفسیاتی اتار چڑھاؤ ایک ناپختہ ذہن کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں بداخلاقی، ضد، غیر مہذب زبان اور عدم برداشت جیسے رویّے جنم لیتے ہیں۔
اس بحران کو صرف بچوں کا مسئلہ قرار دینا حقیقت سے آنکھ چرانے کے مترادف ہوگا۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے، میڈیا اور ریاستی نظام سب اس میں کسی نہ کسی حد تک شریک ہیں۔ والدین پر الزام ضرور بنتا
ہے، مگر یہ الزام مکمل نہیں۔ آج کے والدین خود معاشی دباؤ، ذہنی تناؤ اور سماجی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ بہت سے والدین موبائل فون کو بچوں کے لیے ایک محفوظ متبادل سمجھتے ہیں، غافل اس بات سے کہ یہ وقتی سہولت طویل المدت نقصان میں بدل سکتی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام کے کمزور ہونے سے بچوں کو وہ جذباتی سہارا اور اخلاقی رہنمائی میسر نہیں جو پہلے نسل در نسل منتقل ہوتی تھی۔ نتیجتاً تربیت کا خلا اسکرین پُر کر رہی ہے، اور اسکرین کبھی مربی نہیں بن سکتی۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں، اور اگر دیکھنے کو صرف غیر حقیقی، سطحی اور نمود و نمائش سے بھرپور مواد ملے تو شخصیت کی تعمیر ادھوری رہ جاتی ہے۔تعلیمی میدان میں اس کے اثرات واضح ہیں۔ توجہ کا دورانیہ کم ہو رہا ہے، مطالعے کی عادت ختم ہوتی جا رہی ہے، اور فوری نتائج کی خواہش محنت، صبر اور تسلسل جیسے اوصاف کو نگل رہی ہے۔ اساتذہ محض نصاب پڑھانے والے نہیں رہے بلکہ ایک ایسی نسل سے نبرد آزما ہیں جو اسکرین کی رفتار پر سوچنے کی عادی ہو چکی ہے۔
اس مسئلے کا حل کسی انتہا میں نہیں۔ نہ مکمل پابندی کارآمد ہے اور نہ کھلی آزادی۔ اصل ضرورت توازن، رہنمائی اور شعور کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے عمر کے مطابق اسکرین ٹائم مقرر کریں، ان کے دیکھے جانے والے مواد میں دلچسپی لیں، اور سب سے بڑھ کر خود عملی مثال قائم کریں۔ وہ والدین جو خود ہر وقت موبائل میں مصروف ہوں، بچوں سے اعتدال کی توقع نہیں کر سکتے۔تعلیمی اداروں کو محض امتحانی نظام سے نکل کر ڈیجیٹل اخلاقیات، میڈیا لٹریسی اور ذہنی صحت جیسے موضوعات کو نصاب اور سرگرمیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔ کشمیر کے اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور مقامی اداروں میں والدین اور بچوں کے لیے مشترکہ آگاہی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ریاست اور میڈیا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کریں اور غیر اخلاقی و غیر معیاری مواد کی روک تھام کریں۔ ساتھ ہی ایسے مثبت مقامی رول ماڈلز کو فروغ دیا جائے جو محنت، علم اور اخلاق کی نمائندگی کریں، نہ کہ محض شہرت کی۔آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کمسن بچے نہ تو اسکرین کے دشمن ہیں اور نہ اس کے غلام بننے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ وہ ہماری اجتماعی دانش، توجہ اور تربیت کے محتاج ہیں۔ اگر ہم نے آج شعور کے ساتھ ان کا ہاتھ تھام لیا تو یہی بچے کل ڈیجیٹل دنیا کے اسیر نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار اور باوقار معمار بن سکتے ہیں۔ کشمیر کا مستقبل اسی انتخاب پر منحصر ہے ۔
[email protected]