عارف بلوچ
اننت ناگ//اننت ناگ میں اینٹی کروپشن بیورو کی کارروائی میں ضلع ترقیاتی کمیشنر دفتر میں رشوت لیتے ہوئے محکمہ دیہی ترقی ملازم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔منظور احمد آہنگر ولد محمد رفیق آہنگر ساکنہ سرندو اچھ بل نامی کلرک 4000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اے سی بی کو شکایت موصول ہوئی تھی کہ ملزم نے سرکاری کام انجام دینے کے عوض ایک شکایت کنندہ سے 4000 روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا،جس کے بعد جال بچھایا گیا اور مذکورہ ملازم کو رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا۔معاملہ کی نسبت کیس درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔دریں اثنابد عنوانی ،رشوت ستانی ،آمدنی سے زائد اثاثوں اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کی جاری کارروائیوں اور فعال اقدامات پر عوامی حلقوں نے اطمینان کا ظہار کرتے ہوئے ایسے رشوت خور وں کی غیر قانونی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی مانگ دہرائی ہے۔گذشتہ ہفتہ شوپیان میںبدنام زمانہ پٹواری عاشق حسین شاہ کی گرفتاری سمیت اے سی بی کی حالیہ کارروائیوں کا عوام نے خیر مقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔لوگوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف اے سی بی کی مہم نے جرایم پیشہ افراد کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے اورعوام کو امید ہے کہ اے سی بی نظام کو لوٹنے والوں کو بے نقاب کرنے اور سزا دینے کے لیے انتھک محنت کرتا رہے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 20دسمبر کو اے سی بی کی ایک متحرک ٹیم نے پٹوار حلقہ پنجورشوپیاںکے پٹواری عاشق حسین شاہ ولد غلام حسن شاہ ساکن ترکہ وانگام شوپیان کو 25000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا اور اس کے خلافP/C ایکٹ 1988 کے تحت مقدمہ FIR نمبر 05/2025 7 کے تحت کیس درج کیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔بعد ازاں ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم پٹواری کے رہائشی مکان کی تلاشی لی گئی۔ اے سی بی نے اب تحققات کا دائرہ وسیع کردیا ہے تاکہ مذکورہ پٹواری کی آمدانی سے زائد اثاثوں اور اس کے قریبی رشتہ داروں کی غیر قانونی جائیداد کا پتہ لگایا جائے۔