انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے 6سال برباد، این او سی کا حصول ہوا نہ منظوری مل سکی
پرویز احمد
سرینگر // 200بستروں والے نئے سی ڈی ہسپتال پروجیکٹ کو انتظامی رکاٹوں نے فائلوں تک محدود رکھا ہے اور پچھلے 6سال سے یہ منصوبہ کا دھول چاٹ رہا ہے۔منصوبہ میں بار بار تبدیلیاں کرنا محکمہ صحت و طبی تعلیم کی عدم دلچسپی کا مظہر ہے۔ پچھلے 6سال سے سی ڈی ہسپتال کے احاطے میں نئی 5منزلہ جدید بلڈنگ کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے ۔سال 1880میں تعمیر ہسپتال کی مین بلڈنگ میں آج تک معمولی مرمتوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ اس تاریخی عمارت کو نہ بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جو ہمارا ورثہ ہے اور نہ نئی تعمیر کیلئے حائل رکاٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سال 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد اسے غیر محفوظ قرار دیکر ہسپتال کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے20کروڑ روپے منظور کئے گئے لیکن مختلف وجوہات کی وجہ سے ہسپتال کی نئی بلڈنگ پر کام شروع نہیں ہوسکا اور ابھی بھی فائل سرکار کو منظوری کیلئے نہیں بھیجی گئی ہے۔سرینگر شہر کی سب سے پرانی عمارتوں میں سے ایک، سی ڈی ہسپتال کی بلڈنگ آہستہ آہستہ خستہ ہورہی ہے۔ہسپتال کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کیلئے ڈی پی آر، ضروری اجازت نامہ اور دیگر لوازمات پورے کرنے کے لئے جے کے پی سی سی نے2019میں تھوڑی سی تعمیراتی سرگرمی کا آغاز کیا تو 370کی تنسیخ کیساتھ ہی تعمیر کا کام شروع نہیں ہوسکا ۔2020میں جونہی سی ڈی ہسپتال کوکوروناوائرس متاثرہ مریضوں کیلئے ’’ کووڈ ہسپتال‘‘ میں تبدیل کیا گیاتو اسی وقت ہسپتال کی نئی بلڈنگ کی تعمیر کا کام کھٹائی میں پڑ گیا اور یہ عام مریضوں کیلئے بند ہوگیا۔ 3سال تک تعمیر کا کام کھٹائی میں پڑنے کے بعد میڈیکل کالج انتظامیہ نے قیمتوں میں اضافہ اور جی 3+بلڈنگ کو جی4+بلڈنگ میں تبدیل کرنے کیلئے ڈی پی آر میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ سال 2022میں بچہ ہسپتال کی جی بی پنتھ بلڈنگ سے منتقلی کے بعد سرکار نے سی ڈی ہسپتال کی تعمیر تک اسے جی بی پنتھ منتقل کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تاہم کمیٹی نے عملے کی کمی اور آکسیجن سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے منتقلی کی اجازت نہیں دی ۔ سال 2022سے سی ڈی ہسپتال ابھی بھی پرانی بلڈنگ میں ہی کام کررہا ہے۔ انتظا میہ اور میڈیکل کالج کی انتظامیہ ’’ محمود کی ٹوپی، احمد کے سر‘‘ کرنے میں مصروف ہے۔ کشمیر عظمیٰ کو ایڈمنسٹریٹر جی ایم سی سرینگر محمد اشرف حکاک نے کہا’’یہ سوال کچھ دن پہلے اسمبلی میں بھی اٹھایا گیالیکن مجھے اور زیادہ معلوم نہیں ہے ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ جی ایم سی شبیر احمد وانی نے بتایا ’’ ڈی پی آر تیار ہے لیکن ہم لائوڈا کی این او سی کا انتظار کررہے ہیں، جب لائوڈا این او سی جاری کرے گا تو فائل سرکار کو منظوری کیلئے بھیجی جائے گی۔