عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/بنگلہ دیش میں 25 سالہ ہندو نوجوان دیپو چندر داس کے ہجوم کے ہاتھوں لرزہ خیز قتل نے نہ صرف سرحد پار ہندو برادری کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ہندستان کے مختلف حصوں، بالخصوص جموں و کشمیر میں بھی شدید غم و غصہ بھڑکا دیا ہے۔ منگل کے روز جموں اور راجوری میں مختلف سماجی، مذہبی اور وکلا تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت سفارتی قدم اٹھایا جائے۔جموں میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں وکلا بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بنگلہ دیشی ہندوؤں کے تحفظ کے لیے سخت مطالبات درج تھے۔بار ایسوسی ایشن کے صدر نرمل کوتوال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’ہم بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حکومتِ ہند سے ہماری اپیل ہے کہ یا تو ان متاثرہ خاندانوں کو بھارت میں پناہ دی جائے یا ڈھاکا حکومت پر ایسا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اقلیتوں کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔ ملک اس قابل ہے کہ مضبوط اور فیصلہ کن اقدام اٹھا سکے۔‘
انہوں نے جموں میں موجود غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا آبادکاروں کی فوری بے دخلی کا مطالبہ بھی دہرایا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ایک طرف ہندو بنگلہ دیش میں مارے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انہی علاقوں کے غیر قانونی افراد کو جموں میں سہولیات دی جا رہی ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔رپورٹوں کے مطابق 18 دسمبر کو مومن سنگھ کے علاقے بالوکا میں ایک کپڑے کی فیکٹری کے نوجوان ورکر دیپو چندر داس پر مبینہ طور پر مذہبی توہین کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے اسے گھسیٹ کر فیکٹری کے باہر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ دیپو کو بے رحمی سے پیٹنے کے بعد درخت سے لٹکا کر ہلاک کیا گیا، اور بعدازاں اس کی لاش ڈھاکہ مومن سنگھ ہائی وے کے قریب لے جا کر آگ کے حوالے کر دی گئی۔یہ واقعہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے مستقبل کے حوالے سے سنگین سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔اس المناک قتل پر شیو سینا ڈوگرا فرنٹ نے بھی جموں کے رانی پارک میں احتجاج کیا۔ تنظیم کے صدر اشوک گپتا نے کہا:’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ جموں میں غیر قانونی آبادکاروں کے لیے سہولیات بڑھ رہی ہیں۔ یہ دوہرا معیار برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘اسی طرح وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے راجوری کے پنجہ چوک میں مظاہرہ کیا، جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کا پتلا نذرِ آتش کیا اور سخت نعرے بازی کی۔
بنگلہ دیش میں ہندو شہری کے المناک قتل پر جموں اور راجوری میں شدید احتجاج