طبی آگہی
ڈاکٹر زبیر سلیم
گزشتہ کئی مہینوں سے مول موج فاؤنڈیشن اپنے منصوبے’’Elders Deserve Better‘‘ کے تحت کشمیر کے شمال، جنوب اور وسطی علاقوں میں سفر کر رہی ہے اور بزرگ شہریوں کےلئے خصوصی طبی اور آگاہی کیمپ منعقد کر رہی ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ جوڑوں کے درد، ذیابیطس، موتیا اور بڑھاپے سے جڑی عام بیماریاں زیادہ سامنے آئیں گی۔ لیکن جس چیز نے ہمیں حیران اور پریشان کر دیا، وہ بے قابو ہائی بلڈ پریشر کی وہ وسیع اور خاموش لہر تھی جو وادی میں ایک نظر نہ آنے والی وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔
ہمارے کیمپوں میں 140/90ملی میٹر مرکری سے زیادہ بلڈ پریشر کو بے قابو تصور کیا گیا۔ حیران کن طور پر ہمیں 240/140ملی میٹر مرکری تک کی ریڈنگز بھی ملیں، جو نہایت شدید اور جان لیوا ہائی بلڈ پریشر کی علامت ہیں۔
اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تھے۔ شمالی کشمیرکےکپواڑہ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں 71فیصد ایسے بزرگ ،جنہیں پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہو چکی تھی، ان کا بلڈ پریشر بے قابو پایا گیا۔ جنوبی کشمیرکے کولگام، شوپیان، اننت ناگ اور پلوامہ اضلاع میں یہ شرح 75 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو کسی بھی صحت کے نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ وسطی کشمیرکےسری نگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع میں بھی 45 فیصد بزرگوں کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں تھا۔
یہ محض اتفاقی یا وقتی ریڈنگز نہیں تھیں۔ یہ ایک مستقل، وسیع اور طبی طور پر خطرناک رجحان تھا۔
بے قابو ہائی بلڈ پریشر اس حالت کو کہتے ہیں جس میں تشخیص، طرزِ زندگی کی ہدایات یا دوائیں لینے کے باوجود بلڈ پریشر تجویز کردہ حد سے اوپر رہتا ہے۔ طبی طور پر اس کی تعریف یہ ہے:
سسٹولک بلڈ پریشر 140ملی میٹر مرکری سے کم اور/یاڈایاسٹولک بلڈ پریشر 90ملی میٹر مرکری سے کم (زیادہ تر بالغ افراد، بشمول بزرگ)
اس کا مطلب یہ ہے کہ دل اور خون کی نالیاں مسلسل اضافی دباؤ میں رہتی ہیں، جس سے فالج، دل کا دورہ، گردوں کو نقصان اور بینائی ضائع ہونے جیسے سنگین خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
بے قابو ہائی بلڈ پریشر کی عام وجوہات میں شامل ہیں:
دواؤںکے استعمال میںبے قاعدگی یا دواچھوڑہی دینا،غلط خوراک یا نامناسب دواؤں کا امتزاج،خود سے دوا یا خوراک میں تبدیلی،فالو اَپ اور نگرانی کا فقدان،طرزِ زندگی کے عوامل (زیادہ نمک، جسمانی غیرفعالیت، ذہنی دباؤ)اور علاج یا دواؤں تک محدود رسائی۔
جب میں نے یہ نتائج ہمارے مدیر اعلیٰ فیاض احمد کلو، کے ساتھ سانجھا کیے تو انہوں نے نہایت معنی خیز بات کہی:
’’یہ صرف طبی اعداد و شمار نہیں ہیں،یہ ایک سماجی انتباہ ہے۔ اگر اتنے زیادہ بزرگوں کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں، تو یہ کہانی صحت سے کہیں آگے جاتی ہے۔ اس پر ایک فیچر بنتا ہے‘‘۔
وہ بالکل درست تھے۔ یہ محض اعدادوشمار کی بات نہیں تھی۔ یہ عادات، عقائد، خدشات، معاشی رکاوٹوں، جغرافیائی مسائل اور نسلوں پر محیط رویّوں کی ایک ایسی کہانی تھی جو ایک عوامی صحت کے بحران میں بدل چکی ہےاور سب کی نظروں سے اوجھل ہے۔
لہٰذا یہ کہانی صرف اعدادوشمارکے ذریعے نہیں، بلکہ ان بزرگوں کی زبانی بیان کی جا رہی ہے جو خود بتاتے ہیں کہ ان کا بلڈ پریشر کیوں قابو میں نہیں آتا۔
’’میرا بلڈ پریشر اب ٹھیک ہے، اس لیے میں نے دوائیں چھوڑ دیں‘‘۔
یہ جملہ میں تقریباً ہر ہفتے سنتا ہوں۔ سننے میں یہ منطقی لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ نہایت خطرناک سوچ ہے۔ہائی بلڈ پریشر بخار نہیں ہے کہ چند دن علاج کر کے ختم ہو جائے۔ بلڈ پریشر اس لیے نارمل ہوا تھا کیونکہ دوائیں اثر کر رہی تھیں۔ دوائیں چھوڑ دینا بیماری کو دوبارہ کنٹرول دے دینا ہے۔ اور ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے، بغیر وارننگ کے، بہت تیزی سے نقصان پہنچاتا ہے۔
’’میں صرف سر درد یا چکر آنے پر بلڈ پریشر کی دوا لیتا ہوں‘‘۔
یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔سر درد ہائی بلڈ پریشر کی قابلِ اعتماد علامت نہیں۔ بہت سے فالج ایسے لوگوں میں ہوتے ہیں جنہیں کوئی علامت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ چکر آنے کا انتظار کرنا اس بات کےلئے کہ دوا لیں، ایسے ہی ہے جیسے زلزلے کا انتظار کرنا تاکہ فیصلہ کریں کہ چھت مضبوط کرنی ہے یا نہیں۔بلڈ پریشر کی دوائیں صرف تب اثر کرتی ہیں جب باقاعدگی سے لی جائیں۔ بلڈ پریشر اس لئے بے قابو نہیں ہوتا کہ دوائیں کمزور ہیں، بلکہ اس لئے کہ عادات کمزور ہیں۔
’’میں دواؤں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا‘‘۔
یہ جملہ خوف سے جنم لیتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بلڈ پریشر کی دواؤں کے عادی نہیں ہوتے۔آپ کے اعضا ان کے ذریعے محفوظ ہوتے ہیں۔گردے، دل، دماغ اور آنکھیں،سب اس وقت محفوظ رہتے ہیں جب بلڈ پریشر قابو میں ہو۔ دوائیں چھوڑنا خود مختاری نہیں، بلکہ خطرہ ہے۔ دائمی بیماریوں کو عمر بھر کی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے،انکار پر مبنی ہمت نہیں۔
’’میں دواکی خوراک خود کم کر لیتا ہوں‘‘۔
یہ خود کو خاموش نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔دوا کی خوراک کم کرنا نمک کم کرنے جیسا نہیں۔ دواؤں کی مقدار عمر، اعضا کی حالت، دیگر بیماریوں اور علاج کے ردِعمل کو دیکھ کر طے کی جاتی ہے،مزاج یا اندازے سے نہیں۔ بہت سے بزرگ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ’’گولی آدھی کر لیتے ہیں ‘‘ یا’’ایک دن چھوڑ کر لیتے ہیں‘‘کیونکہ پچھلے ہفتے بلڈ پریشر ٹھیک تھا۔یہ شارٹ کٹس آخرکار فالج، دل کی ناکامی اور گردوں کی بیماری پر منتج ہوتے ہیں۔
’’غربت، فاصلہ اور غفلت کی جغرافیائی حقیقت‘‘۔
کئی دور دراز دیہات میں بزرگوں نے وہ بات کہی جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔’’ڈاکٹر صاحب، ہم دوائیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے‘‘۔’’قریب کہیں بلڈ پریشر چیک کرنے کی سہولت نہیں‘‘۔
بعض اوقات ہائی بلڈ پریشر اس لئے بے قابو رہتا ہے کہ بزرگ لاپرواہ ہیں، نہیں ،بلکہ اس لیے کہ سہولیات موجود نہیں ہوتیں۔ فارمیسی، ڈیجیٹل بی پی مانیٹر یا صحت مرکز تک رسائی بھی وادی کے کئی علاقوں میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پنشنرز اور یومیہ مزدور خاندانوں کے لئے بلڈ پریشر کی دوائیں خوراک، ایندھن اور بقا سے مقابلہ کرتی ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں سول سوسائٹی، این جی اوز اور عوامی صحت کے نظام کو مل کر آگے آنا ہوگا۔
’’خود سے دوا لینے کا کلچر‘‘
یہ ایک اور خطرناک رجحان ہے۔بزرگ یہ کہہ کر دوائیں لیتے ہیں کہ ’’میرے پڑوسی بھی یہی گولی لیتے ہیں‘‘،’’میرے کزن کو اسی سے فائدہ ہوا‘‘یا ’’کیمسٹ نے یہی دے دی‘‘۔
ہائی بلڈ پریشر کی دوائیں ایک جیسی نہیں ہوتیں، چاہے شکل ملتی جلتی ہو۔ ایک دوا ایک شخص کے لئے فائدہ مند اور دوسرے کےلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ زیادہ خوراک بیہوشی کا سبب بن سکتی ہے، کم خوراک خاموش نقصان کا۔ خود سے دوا لینا جھوٹی تسلی اور حقیقی خطرہ ہے۔
’’حمام میں بیٹھنے سے میرا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے‘‘۔
یہ بات خاص طور پر سردیوں میں اکثر سننے کو ملتی ہے۔گرم کمروں میں خون کی نالیاں پھیلتی ہیں، لیکن پانی کی کمی، گرمی کا دباؤ اور اچانک اٹھ کر سرد ماحول میں جانا بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتا ہے۔ حمام ہائی بلڈ پریشر پیدا نہیں کرتا، بلکہ پہلے سے موجود، مگر بے قابو ہائی بلڈ پریشر کو نمایاں کر دیتا ہے۔
’’علامات ہمیشہ واضح نہیں ہوتیں‘‘
بے قابو بلڈ پریشر ہمیشہ شور نہیں مچاتا۔ کبھی کبھی وہ وار کرنے سے پہلے سرگوشی کرتا ہے۔
ممکنہ علامات:
• کبھی کبھار سر درد، ہلکی تھکان، بے چینی، نظر میں معمولی تبدیلی، سر میں بھاری پن، ناک سے خون آنا
لیکن سب سے خوفناک حقیقت؟۔بہت سے لوگ کچھ بھی محسوس نہیں کرتے۔
اور پیچیدگیاں؟ وہ بے رحم ہوتی ہیں۔
بے قابو ہائی بلڈ پریشر برسوں تک خاموشی سے جسم کو کھوکھلا کرتا رہتا ہے، پھر ایک ہی لمحے میں تباہی مچا دیتا ہے۔
• فالج ۔جسم کا مفلوج ہونا، بولنے کی صلاحیت کا خاتمہ
• دل کا دورہ ۔ اچانک سینے میں درد یا گر جانا
• دل کی ناکامی ۔ سوجن، سانس کا پھولنا
• گردوں کی ناکامی ۔ ڈائلیسس پر انحصار
• اندھا پن ۔ آنکھ کے پردے کو نقصان
• ڈیمنشیا ۔ دماغ تک خون کی فراہمی میں کمی
یہ نایاب نہیں ہیں۔ یہ بے قابو بلڈ پریشر کے عام انجام ہیں۔
یہ بحران کیوں اہم ہے؟
کیونکہ ہائی بلڈ پریشر اکیلی بیماری نہیں۔ یہ دوسری بیماریوں کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ زندگی سے سال چھین لیتا ہے اور برسوں سے زندگی چھین لیتا ہے۔
کشمیر کے بزرگ پہلے ہی سرد موسم، محدود نقل و حرکت، تنہائی اور دائمی بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا خاموش بوجھ ہے جو وہ محسوس نہیں کرتے، مگر ہم ناپ سکتے ہیںاور ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا۔
غذا اور ورزش
کشمیر میں ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کیلئے باقاعدہ دواؤں کے ساتھ مضبوط طرزِ زندگی ضروری ہے۔ نمک کم کریں،خصوصاً نون چائے، اچار اور روٹی میں،پروسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں،پھل، سبزیاں، دالیں اور مچھلی زیادہ استعمال کریں، سردیوں میں بھی پانی پیتے رہیں، حمام یا بہت گرم کمروں میں زیادہ دیر نہ بیٹھیں کیونکہ اس سے پانی کی کمی اور بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ ہوتا ہے،گھر کے اندر یا دن کی محفوظ روشنی میں چہل قدمی کریں، وزن متوازن رکھیں، وازوان کی چکنائی، سرخ گوشت اور زیادہ چائے سے پرہیز کریں،دعا، سانس کی مشقوں یا پُرسکون معمولات کے ذریعے ذہنی دباؤ کم کریں، اور قریبی صحت مراکز پر باقاعدہ بلڈ پریشر چیک کروائیں۔ یہ تمام عادات مل کر ہمارے موسم اور ثقافت میں بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اب ہمیں کیا کرنا ہوگا
• بلڈ پریشر چیک کرنے کی سہولت گھر کی دہلیز تک پہنچائی جائے۔
• کم قیمت یا سبسڈی والی دوائیں فراہم کی جائیں۔
• صرف مریض نہیں، پورے خاندان کی کونسلنگ کی جائے۔
• خود سے دوا لینے کو معمول نہ بنایا جائے۔
• کمیونٹی ورکرز کے ذریعے فالو اَپ مضبوط کیا جائے۔
• یہ شعور پیدا کیا جائے کہ دائمی بیماری کا مطلب عمر بھر کا علاج ہے
• یہ تسلیم کیا جائے کہ بلڈ پریشر پر قابو کوئی آپشن نہیں،یہ بقاکی لڑائی ہے
اظہارِ تشکر:
مضمون نگار ڈاکٹر جہانگیر بخشی، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر اور ان کی ٹیم ڈاکٹر انجم افشاں، ماہرِ وبائیات نظامت صحت کشمیر،جی کے لیبز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور ٹیم، جی کے ٹی وی، سینٹرفار انٹرڈسپلنری سٹیڈیز آن ایجنگ (CISA) کی ادارہ جاتی اخلاقی کمیٹی، اُمید فاؤنڈیشن، ہیلپ فاؤنڈیشن اور چنار انٹرنیشنل کے تعاون کا تہہ دل سے شکر گزار ہے۔