بلال فرقانی
سرینگر//کانگریس رہنمااورسابق وزیرخارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ وفاقی نظام میں ریاستی درجہ ایک بنیادی شناخت رکھتا ہے اورجموں کشمیرمیں ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہدمحض سیاسی مطالبہ نہیں ،بلکہ عوام کے وجود،شناخت اورجمہوری حق کی لڑائی ہے۔ہفتہ کو سرینگر میں کانگریس کے جموں و کشمیر صدر طارق حمید قرہ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا’’جمہوری لڑائی آپ کے وجود کی لڑائی ہے، اور وجود کا مطلب ریاستی درجہ ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہر انسان، ہر سیاسی جماعت اور ہر اجتماعی و انفرادی شناخت کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، اور وفاقی نظام میں ریاستی درجہ ایک بنیادی شناخت کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کے درجے کو کم کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔سلمان خورشید نے کہا کہ کسی خطے کے عوام کی مرضی کے بغیر اس کے ریاستی درجے میں مداخلت کرنا جمہوریت کی سنگین توہین ہے۔ انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے ساتھ یہی ہوا ہے، اور اس سے بڑی گستاخی جمہوریت میں نہیں ہو سکتی‘‘۔ سابق وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں یہ وعدہ کیا تھا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ جلد بحال کیا جائے گا۔ تاہم وفاقی نوعیت کے معاملے کے باعث عدالت عظمیٰ نے اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ان کا کہنا تھا’’اب کافی وقت گزر چکا ہے، مگر تاحال ریاستی درجہ بحال نہیں کیا گیا‘‘۔کانگریس لیڈر نے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو ایک واضح اور مضبوط شناخت دی ہے۔ سلمان خورشید نے کہا’’میں عوام کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملا رہا ہوں‘‘۔ ایک سوال کے جواب میں سلمان خورشید نے اتحاد کی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے اندر رہتے ہوئے بھی اپنی شناخت کو زندہ رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری سیاست میں اتحاد کا مطلب اپنی آواز یا پہچان کو ختم کرنا نہیں بلکہ مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھا ہونا ہوتا ہے۔انہوں نے پارلیمانی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی اتحاد کامیاب رہا اور اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر جماعتیں اپنی نظریاتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مل کر چلیں تو عوامی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے جموں کشمیر کے صدر طارق حمید قرہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی جموں و کشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔