پرویز احمد
سرینگر // بڑھتی ہوئی آلودگی ، دھول، شدید سردی، موسمی وائرس کی وجہ سے وادی کے 15سال سے کم عمر بچوں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔وادی میں اس عمر کے بچے الرجی کے بھی شکار ہوجاتے ہیں اور شدید سردی کے موسم میں یہ کھانسی سے متاثر ہوجاتے ہیں یا بخار اور زکام کے علاوہ گلے میں سوزش سے بھی بری طرح متاثر ہوجاتے ہیں۔وادی میںنومبر سے شروع ونے والے سرد ترین موسم میں 30فیصد بچے گلے کی سوزش، الرجی اور موسمی وائرس سے بری طرح متاثرہوتے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں شدیدسردی، خشک موسم،کمروں کی کھڑکیاں بند رکھنا ، لکڑی کی بخاریاں، غیرمتوازن غذا اور بچوں کا صبح سویرے یا شام دیر کو گھر سے باہر نکلنا شامل ہے۔یورپین جنرل آف پیا ڈٹرکس(european journal of Peadratics)میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وادی میں 25سے 30فیصد بچے موسم سرما کے دوران گلے میں سوزش کے شکار ہوجاتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 60فیصد خطہ افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والے بچے ہوتے ہیں اور میں سے 86فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہوتا ہے۔ماہر امراض اطفال ڈاکٹر مبشر خان کہتے ہیں کہ بچوں میں سردیوں میں گلے کی سوزش ہونا عام سی بات ہے۔ انہوں نے کہا ’’ خشک موسم اور سردی وائرس اور چند اقسام کے بیکٹیریا کے پھیلائو کیلئے موزون ہوتی ہے ۔ ان وائرس اور بیکٹیریا میں Beta-Hemolytic Streptococcus نامی بیکٹیریا سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیکٹیریا سرد اور خشک موسم میں تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ گھروں میں نہ تو ہوا کے آنے جانے کا کوئی انتظام ہوتا ہے اور نہ ہی ہم بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں چلتے وقت احتیاط برتے ہیں۔ ڈاکٹر مبشر نے بتایا کہ متاثرہ بچوں میں کھانسی، بخار، گلے میں جلن جیسی علامتیں پیدا ہوتی ہے جو پھر مختلف اینٹی بائیوٹک ادویات کی مدد سے ٹھیک ہوجاتی ہیں۔
الرجی
کشمیر میں29فیصد بچے ناک کی الرجی(allergic rhinitis) کے شکار ہیں۔ان میں سے 55.2بچوں کا تعلق شہری جبکہ44.8فیصد بچوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ 90فیصد بچے ہوا میں موجود دھول، مٹی اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے الرجی کے شکار ہورہے ہیں۔ موسمی بخار یا ناک کی الرجی(allergic rhinitis)6سے 16سال تک کے بچوں کی وہ الرجی ہوتی ہے جوبچوں کو اپنا شکار بناتی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کی جانب سے 6سے 16سال تک کے سکولی بچوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کشمیر صوبے میں سکول جانے والے بچوں میں 28.85فیصد بچے ناک کی الرجی کے شکار ہوتے ہیں۔ ۔ ان بچوں میں سے80فیصد میں ناک کا بند ہوناسب سے بڑی علامت ہے۔ اس کے علاوہ ان بچوں میں ناک بہنا، زکام ، آنکھوں اور ناک میں خارش ہونا بھی شامل ہیں۔ 24فیصد متواتر طور پر الرجی کے شکار ہوجاتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دمہ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ وادی کے معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر قیصر احمد کول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بچوں کی مدافعتی قوت کمزور ہوتی ہے اور اس لئے بچپن سے ہی یہ الرجی کے شکار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الرجی ناک سے ہوکر چھاتی تک پہنچتی ہے اور یہی بچے پھر دمہ کے شکار ہوجاتے ہیں۔