محتشم احتشام
پونچھ//جموں کشمیر میں معذور افراد، بیواؤں اور بزرگ شہریوں کو دی جانے والی ماہانہ پنشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونا ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے باعث معاشرے کے سب سے کمزور طبقات شدید ذہنی و معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ مستحقین کا کہنا ہے کہ پنشن کی رقم ہر ماہ مقررہ وقت پر کھاتوں میں منتقل نہیں کی جاتی، جس کے نتیجے میں انہیں خوراک، ادویات اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔متاثرہ افراد کے مطابق پنشن ان کے لئے محض ایک مالی سہولت نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس میں معمولی سی تاخیر بھی ان کیلئے اذیت کا سبب بن جاتی ہے۔ کئی بزرگ شہری اور معذور افراد مہنگائی کے اس دور میں مکمل طور پر اسی معمولی رقم پر انحصار کرتے ہیں، مگر بار بار کی تاخیر نے ان کی زندگی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بہتر طرزِ حکمرانی اور فلاحی نظام کے بلند و بانگ دعووں کے برعکس، پنشن کی عدم بروقت ادائیگی انتظامی بے حسی اور سنجیدگی کے فقدان کی عکاس ہے۔ سماجی کارکنوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلاحی اسکیموں کی اصل روح اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ان پر مؤثر اور باقاعدہ عملدرآمد ہو۔متاثرہ پنشن یافتگان نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنشن کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے، ادائیگی کے عمل کو شفاف اور خودکار بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر مستحق کو اس کی رقم ہر ماہ بروقت اور بغیر کسی رکاوٹ کے موصول ہو۔عوامی مطالبہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو محض ایک انتظامی تاخیر سمجھنے کے بجائے انسانی ہمدردی کے زاویے سے دیکھے، تاکہ غریب، بے سہارا اور معذور افراد کو بار بار اذیت اور انتظار کی کیفیت سے نہ گزرنا پڑے۔