سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری نے منگل کے روز ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا، جب ضلع کو اس کا پہلا ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ’صدا ئےپیر پنجال‘ حاصل ہوا۔فوج کی جانب سے قائم کئے گئے اس ریڈیو سٹیشن کا باضابطہ افتتاح ایک پروقار تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں سول انتظامیہ، فوج، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سے وابستہ معزز شخصیات نے شرکت کی۔ریڈیو سٹیشن ’صدا ئےپیر پنجال‘ کا نام پونچھ سے تعلق رکھنے والی معروف ادبی شخصیت کے ڈی مینی نے تجویز کیا، جسے تقریب میں خصوصی طور پر سراہا گیا۔ افتتاحی تقریب میں جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) ایس آف اسپیڈز ڈویژن میجر جنرل کوشک مکھرجی، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اقبال، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری ملک زادہ شیراز الحق، فوج اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، مقامی معززین اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔یہ ریڈیو سروس ایف ایم فریکوئنسی 86.4پر دستیاب ہوگی، جبکہ اس ریڈیو اسٹیشن کی ایک خصوصی موبائل ایپ بھی لانچ کی گئی ہے، جو اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوگی۔ ایک مخصوص اور تربیت یافتہ ٹیم کو دن کے اوقات میں ریڈیوسٹیشن چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جہاں تفریحی پروگراموں کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر مبنی مواد نشر کیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جی او سی ایس آف اسپیڈز ڈویژن میجر جنرل کوشک مکھرجی نے ریڈیو سٹیشن کے افتتاح کو پیر پنجال خطے کے لئے ایک تاریخی اور یادگار لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم سرحدی علاقے کے لوگوں کی آواز بنے گا اور مقامی ثقافت، مسائل اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ریڈیو اسٹیشن کا نام تجویز کرنے پر ادبی شخصیت کے ڈی مینی کی بھرپور ستائش کی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری ملک زادہ شیراز الحق نے کہا کہ ’صدا ئےپیر پنجال‘ نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوگا بلکہ سماجی مسائل کے حل، زرعی آگاہی اور کسانوں کے لئے مفید معلومات فراہم کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریڈیو اسٹیشن لائن آف کنٹرول کے پار سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا مثبت جواب بھی ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ یہ ریڈیو اسٹیشن ایس آف اسپیڈز ڈویژن کی 25 آئی ڈی ایس آر یونٹ نے سول انتظامیہ اور مقامی شہریوں کے تعاون سے قائم کیا ہے، جو راجوری اور پیر پنجال خطے کے لئے ایک نئی شناخت اور امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔