محمد تسکین
بانہال //سب ڈویژن بانہال میں بیٹری سے چلنے والے الیکٹرک آٹو ڈرائیوروں نے اپنے مسائل اور مبینہ ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ سے مستقل آٹو سٹینڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران بانہال کے پچاس سے زائد بیروزگار نوجوانوں نے مختلف بینکوں اور سرکاری سکیموں کے تحت قرض حاصل کرکے الیکٹرک آٹو خریدے ہیں اور ان آٹو رکشوں نے مقامی آبادی کو سستی اور آسان سفری سہولت فراہم کر کے کافی حد تک راحت پہنچائی ہے۔ الیکٹرک آٹو ایسوسی ایشن بانہال کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس، مقامی پولیس، وین آپریٹرز اور بعض دکاندار آٹو ڈرائیوروں کے ساتھ ناروا سلوک کر رہے ہیں اور آٹو والوں کو قصبہ بانہال میں کہیں بھی رکنے نہیں دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ آٹو ڈرائیوروں نے الزام لگایا کہ ٹریفک پولیس ان کی گاڑیوں کے فوٹو لیکر آن لائن چالان کر رہی ہے جبکہ قصبہ بانہال میں بیشتر دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے آٹو رکنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ٹریفک پولیس اہلکار مسلسل ان کا تعاقب کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث انہیں پورا دن آٹو دوڑانا پڑتا ہے اور بیٹری دوپہر تک ختم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں آمدنی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے مرکزی اور ریاستی حکومتیں گرین ریولوشن کے تحت بیٹری سے چلنے والے ماحول دوست آٹو اور گاڑیوں کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں وہیں بانہال میں ایسے آٹو والوں کو بلاوجہ تنگ کرکے ان کے روزگار کو دشوار بنایا جا رہا ہے اور انہیں کسی بھی قسم کی راحت نہیں دی جا رہی ہے۔ آٹو ڈرائیوروں نے ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین ، ڈپٹی کمشنر رام بن ، ایس ڈی ایم بانہال اور ٹریفک حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں قصبہ بانہال میں پانچ سے دس آٹو کے لیے ایک چھوٹا سا باقاعدہ سٹینڈ فراہم کیا جائے تاکہ وہ منظم انداز میں مسافروں کو چڑھا اور اتار سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹو سٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ پوری مارکیٹ میں گھومنے پر مجبور ہیں اور کسی بھی مقام پر رُکنے کی صورت میں پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چالان، تعاقب اور پابندیوں نے ان نوجوانوں کی روزی روٹی پر براہِ راست ضرب لگائی ہے اور سارے دن گھومنے کے بعد شام کو وہ یومیہ مزدور کی رقم بھی جڑا نہیں پاتے ہیں اور کئی ڈرائیوروں کو گھر خالی ہاتھ جانا پڑتا ہے۔ آٹو ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ضلع اور سب ڈویژن انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے انہیں مخصوص جگہ پر آٹو کھڑا کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ نوجوان آٹو ڈرائیور باعزت طریقے سے اپنی روزی روٹی کما سکیں۔