محمدتسکین
بانہال // چلنت آرٹ گروپ بانہال کی جانب سے ادب، لسانیات اور موسیقی کے فروغ کے لیے دو روزہ شاندار ادبی و فنی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد وادیٔ چناب کے ممتاز شاعر، موسیقار اور بانیٔ چلنت مرحوم غلام نبی ڈولوال المعروف جانباز کشتواڑی کو ان کی 35ویں برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔ہائیر سیکنڈری سکول بوائز بانہال میں جمعرات کو منعقدہ یومِ جانباز تقریب میں بانہال کی مختلف ادبی تنظیموں کے نمائندوں، اساتذہ، طلباء اور ادب و فن سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں چلنت آرٹ گروپ کے علاوہ لٹریری اینڈ آرٹ کلب بانہال، بمبرن باغِ کاشر بزمِ ادب مہو منگت، عبدالرحیم اعما فاؤنڈیشن اور چلنت فورم بانہال کے اراکین بھی شریک رہے۔ چلنت فورم بانہال کے صدر بہار احمد میر نے استقبالیہ خطاب میں جانباز کشتواڑی کی فنِ موسیقی میں خدمات کو اجاگر کیا ۔ اس پروگرام کی صدارت گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول بانہال کے انچارج پرنسپل منظور احمد کامگار نے کی اور انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں مرحوم ڈولوال کو وادیٔ چناب کا عظیم الشان فنکار قرار دیا۔ انہوں نے کہا صوبہ جموں میں جانباز کشتواڑی نے کشمیر ادب کی جو خدمات انجام دی ہیں انہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا اور موجودہ دور میں بھی جانباز کشتواڑی کی شاعری اور انکی منفرد آواز کو خوب سنا اور گایا جاتا ہے۔ مہمانِ خصوصی محمد یوسف بمبور اور بلال احمد تانترے نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم جانباز کشتواڑی کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پروگرام میں طلباء کی جانب سے بھی مضامین پیش کیے گئے جن میں محمد صفوان سوہل اور مسعیب امین نمایاں رہے۔ نظامت کے فرائض بہار احمد بہار نے انجام دیے، جبکہ اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس پروگرام کے دوسرے دن منعقدہ خصوصی بزمِ چلنت میں موسیقی کی محفل دیر رات تک جاری رہی، جس کی صدارت معروف ادیب و مبلغ ڈاکٹر خالد رسول نے کی۔ محفل میں چلنت فنکاروں نے مرحوم جانباز کشتواڑی کے کلام کو اپنی بہترین آواز اور ساز کے ساتھ منفرد انداز میں پیش کرکے مرحوم کو یاد کیا۔ اس محفل میں بہار احمد بہار، عبدالوحید مطرب، غلام نبی بھورو، شکیل احمد وگے اور بہار احمد میر نے اپنی شاندار پرفارمنس سے محفل میں چار چاند لگائے اور اسے یادگار بنا دیا۔کشتواڑ کے ڈول ہستی میں 1925 میں پیدا ہوئے جانباز کشتواڑی 1990میں اِس جہاں کو خیر باد کہہ گئے ۔1990میں ان کے انتقال کے وقت جانباز کشتواڑی ادب و فن کے ایک بڑے ستارے بن چکے تھے اور ریڈیو کشمیر سرینگر سے ان کے کلام کی فرمائش سے لاکھوں لوگ ان کی منفرد آواز اور کلام سے مانوس ہوچکے تھے۔ سمارٹ فون میں انٹرنیٹ کی آمد کے بعد جانباز کشتواڑی کی آواز، شاعری اور ثقافتی خدمات موجودہ نسل تک پہنچ گئی ہیں اور آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔