مشتاق الاسلام
پلوامہ //ضلع پلوامہ اس وقت تیزی سے ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی زد میں آ رہا ہے، جہاں فضائی آلودگی خطرناک سطح کو چھوتی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر معتبر فضائی معیار جانچنے والے ادارے IQAir کے مطابق منگل کی سہ پہر 2:30 بجے ضلع کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) بڑھ کر 156 تک پہنچ گیا، جو مکمل طور پر غیر صحت بخش (Unhealthy) زمرے میں شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق فضا میں موجود باریک ترین آلودہ ذرات PM2.5 کی مقدار 62.2 g/m ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مقررہ معیار سے 12 گنا زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ باریک ذرات پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ کر دمہ، سانس میں رکاوٹ، الرجی، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کو جنم دے سکتے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور سانس کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ باہر نکلنے سے قبل N-95 ماسک کا استعمال کریں اور گھروں و دفاتر میں ایئر پیوریفائر کا استعمال بڑھایا جائے۔ماحولیات کے ماہرین نے آلودگی میں اضافے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں، جن میں صنعتی یونٹس کا بے قابو اخراج،بھاری گاڑیوں کی بڑھتی آمدورفت،اینٹ بٹھوں، سیمنٹ فیکٹریوں اور اسٹون کریشروں میں اضافہ،پلاسٹک پروسیسنگ یونٹوںکی سرگرمیاں اور کم ہوا کی رفتار (04.5 km/h) جس کے باعث آلودگی زمین کے قریب ہی ٹھہری رہتی ہے۔سماجی کارکن بٹ مصدق ریاض نے صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ کی ہوا روز بروز زہریلی ہوتی جا رہی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بڑے صحت عامہ کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب پولیوشن کنٹرول بورڈ پلوامہ نے IQAir کے اعداد و شمار کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔ضلع افسر بلال احمد خان نے کہا کہ ضلع میں آلودگی کی نگرانی کے لیے BM2.5 اور UB2.10 مشینیں نصب ہیں جو درست اور حقیقی اعداد و شمار فراہم کرتی ہیں۔ان کے مطابق کھریوپانپور علاقے میں جہاں صنعتی یونٹ زیادہ ہیں ، آلودگی کی مقدار 17 AQI سے کم ہوکر 16 AQI تک گر گئی ہے، جو کہ بہتری کی علامت ہے۔