عاصف بٹ
کشتواڑ// چسوتی سانحہ کے پانچویں دن پیر کو ہلکی بارش کے درمیان دور دراز گائوں میں ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔جائے وقوع سے 10کلو میٹر دور کندرم نامی مقام پرایک عدم شناخت خاتون کی لاش بر آمد کی گئی۔ابھی تک 63کی لاشیں نکالی گئی ہیںجن میں سی آئی ایس ایف کے تین اہلکار اور ایک پولیس اسپیشل آفیسر بھی شامل ہیں، جبکہ ابھی بھی43سے زیادہ افراد لاپتہ ۔ریسکیو ٹیموں نے اب تک 167 افراد کو نکالا جن میں بعض شدید زخمی ہیں۔
ہلاکتیں
جموں کے صو بائی کمشنر رومیش کمار نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر کو دن بھرہلکی بارش ہورہی تھی لیکن اسکے باوجود لاپتہ افراد کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی جار رہی۔ صوبائی کمشنر نے کہا کہ پیر کو مزید ایک لاش بر آمد کی گئی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ لاش جائے وقوع سے10 کلو میٹر دور کندرم گائوں میں بر آمد کی گئی، جو ایک کاتون کی تھی جو کہ عدم شناخت ہے۔صوبائی کمشنر نے مزید کہا کہ ابھی تک اس سانحہ میں63 افرادکی لاشیں بر آمد کی جاچکی ہیں جبکہ، 60کی شناخت کی گئی ہے، جنہیں ورثا کے حوالے کیا گیا ہے۔صوبائی کمشنر نے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہل کانہ کیلئے قائم ہیلپ لائن پر کل137فون کالز موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد ان میں سے 59زندہ نکلے، جو ادھر اُدھر دیگر جگہوں میں مقیم تھے جبکہ 35کی لاشیں بر آمد کی گئیں تاہم ابھی تک43 افرادلاپتہ ہیں۔صوبائی کمشنر نے تاہم کہا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں وہ وثوق کیساتھ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے اورع نہ لاپتہ ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد کے بارے میں مصدقہ طور پر کہہ سکتے ہیں لیکن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی فون کالز کی بنیاد پر وہ اس نتیجہ پر پہنچنے ہیں کہ ابھی 43افراد کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ اس سانحہ میں جو ہلاتیں ہوئیں وہ زیادہ تر جموں اور ادیم پور اضلاع سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ضلع کشتواڑ کے کل 15افراد کی ہلاکت ہوئی جن میں 12کی لاشیں بر آمد کی گئیں جبکہ ایس پی او سمیت 3 شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
بچائو کارروائیاں
یہاں ملبے کو صاف کرنے کے لیے سینکڑوں لوگ کام کر رہے ہیں جب کہ پولیس سونگھنے والے کتوں کا بھی استعمال کررہی ہے تاکہ زندگی کی نشانیوں کو ڈھونڈا جاسکے۔ حکام نے بتایا کہ بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے ملبے کوہٹایا جارہا ہے۔رین کوٹ پہنے ہوئے، ریسکیو ٹیموں کو متعدد مقامات پر، خاص طور پر لنگر(کمیونٹی کچن) کے قریب واقع اہم جگہ کام کرتے دیکھا گیا۔ پانچویں دن بھی لاپتہ افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری ر ہیں۔ بارش کے پیش نظر موسم مشکل رہا۔ پولیس، فوج،این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، سی آئی ایس ایف، بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او)، سول انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں کی مشترکہ ٹیمیں بچا ئوکی کوششوں میں مصروف ہیں۔فوج کے انجینئروں نے اتوار کو چسوتی نالہ پر ایک بیلی پل بنایا، جس سے گائوں اور مچیل ماتا کے مندرتک انتہائی ضروری رابطہ فراہم کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ فوج نے بچائو اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ایک دو آل ٹیرین گاڑیاں بھی شامل کی ہیں۔ریسکیورز نے پچھلے دو دنوں میں تقریباً نصف درجن کنٹرول دھماکے کیے تاکہ تلاش میں رکاوٹ بننے والے بڑے بڑے پتھروں کو اڑایا جا سکے۔
بچائو کارروائی کی نگرانی
۔8 آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران تعینات
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے پیر کو 8 سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو ضلع کشتواڑ کے بادل پھٹنے سے متاثرہ چسوتی گائوں میں راحت اور بچا ئوکاموں کی نگرانی کے لیے تعینات کیا ہے۔کمشنر سکریٹری برائے حکومت ایم راجو کے جاری کردہ ایک حکم کے مطابق”حالیہ المناک بادل پھٹنے کے جواب میں راحت اور بچا ئو کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے لیے، افسروں کو، روسٹر کے مطابق ضلع کشتواڑ کے چسوتی گائوں میں تعینات کیا گیا ہے” ۔افسران کو اگلے8 دنوں کے لیے بستی میں تعینات کیا جائے گا، جس میں ایک آئی اے ایس اور ایک آئی پی ایس افسر دو دن کے لیے آپریشن کی نگرانی کریں گے۔پرنسپل سکریٹری داخلہ چندراکر بھارتی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنز اینڈ سروسز) اتم چند 19 اور 20 اگست کو آپریشنز کی نگرانی کریں گے۔ اس کے بعد پرنسپل سکریٹری انیل کمار سنگھ اور آئی جی پی سجیت کمار 21 اور 22 اگست کو آپریشنز کی نگرانی کریں گے۔فنانشل کمشنر اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری شالین کابرا اور آئی جی پی سلیمان چودھری 23 اور 24 اگست کو تعینات ہوں گے۔اس کے بعد سیکرٹری شاہد اقبال چودھری اور آئی جی پی وویک گپتا 25 اور 26 اگست کو تعینات رہیںگے۔