ٹی این بھارتی
نئی دہلی// اردو زبان و ادب میں فروری ماہ سے مایہ ناز شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب کے یوم پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن انجمن ترقی اردو ہند اور انڈیا انٹر نیشنل سینٹر نے مرزا غالب کو بالائے طاق رکھ کر میر کی دلی شاہجہاں آباد ایک شہر ممکنات کے تحت15 فروری سے 18 فروری تک میر تقی میر کی شاعر انہ عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے 4 روزہ تقریبات کا اہتمام کیا۔ ششم اجلاس میں انجمن کی آنکھوں میں بھرتے سلا ئیاں دیکھیں :1857 کا ہنگام اور بہادر شاہ ظفر کا کورٹ مارشل : تاریخی حقائق کی روداد کے عنوان سے ڈاکٹر سنجے گرگ کی میزبانی میں پروفیسر امر فاروقی اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے مذاکرہ کے دوران خیال اظہار کیا۔ پروفیسر فاروقی نے 1857 کے نا گفتہ بہہ حالات پر روشنی ڈالی۔ سابق وزیر سلمان خورشید نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حالت زار پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہ بہادر شاہ ظفر نے زندگی کے آخری ایام میں مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ۔ان کی شاعری میں اس دور کی عکاسی بخوبی نظر آتی ہے۔ ہفتم ا جلا س میں زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی : دہلی کا بدلتا منظر نامہ : دلی کالج اور ما سٹر رام چندر کے عنوان سے پروفیسر مدھو پر ساد کی میز بانی میں لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ مو ریس ، پروفیسر ایس عرفان حبیب اور پروفیسر دھرو رینا نے انگریزی زبان میں اظہار خیال کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ نے انگریزی زبان میں نقل شدہ مقالہ سناتے ہوئے کہا کہ سر زمین ہند میں بر طانوی حکومت کے دور میں ماسٹر رام چندر نے ریاضی و سائینسی علوم میں قابل قدر کا رنامہ انجام دیا۔ اس انگریزی زبان کے اجلاس اختتام پر جب راقم الحروف نے لیفٹیننٹ کرنل مو ریس سے مقالہ کا خلاصہ اردو زبان میں پیش کرنے کے لئے گزارش کی تو کرنل رچرڈ نے ہاتھ جوڑ کر معافی ما نگتے ہوئے کہا میں معافی چاہتا ہوں مجھے اردو نہیں آتی۔ انجمن ترقی اردو ہند کے سیکرٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے اس صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خاں کی سا ئنٹفک سو سائٹی سے ان کا سرو کار نہیں ہے اور نہ انھوں نے سر سید احمد خاں کو سلیبس میں شامل کیا ہے ۔